چلڈرن ہسپتال منڈی بہاوالدین میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

Advertisement
Advertisement

منڈی بہاؤالدین( ایم.بی.ڈین نیوز 30نومبر2020) ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے کہا ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان ہم سب کا اصل ہدف ہے، دنیا نے پولیو سے نجات حاصل کر لی ہے اب ہمیں اس کے خاتمے کیلئے قومی فریضہ کے طور پر تمام توانائیاں صرف کرنا ہوں گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے آج یہاں چلڈرن ہسپتال میں 5سال سے کم عمر بچوں کو پولیوویکسین کے قطرے پلا کر پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر سی ای او ہیلتھ (ڈی ایچ اے ) ڈاکٹر محمد الیاس گوندل، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرزڈاکٹر افتخار احمد،ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر خالد عباسی، ایم ایس ڈی ایچ کیو ،چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر محمد شکیل نذر ،ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر رافعہ ناہید،نمائندہ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر صدف خالق،پرسنل اسسٹنٹ ٹو سی او ہیلتھ ارسلان رٌف کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

اس موقع پرسی او ہیلتھ ڈاکٹر محمد الیاس گوندل نے بتایا کہ ضلع منڈی بہاؤالدین میں 30نومبرسے 4دسمبرتک جاری رہنے والے اس مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے276196بچوں کوپولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے جس کیلئے 1805ورکرز پر مشتمل محکمہ صحت کی70فکسڈ ٹیمیں،گھر گھر جانے والی722ٹیمیں ،70یوسی ایم اوز جبکہ162ایریا انچارج مقرر کئے گئے ہیں۔جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس خطرناک اور موذی مرض سے محفوظ رکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت کے مطابق ضلع میں پولیو کے خلاف قومی مہم کو جذبہ حب الوطنی کے تحت مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے سی او ہیلتھ کو ہدایت کی کہ 30نومبر سے شروع ہونے والی مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کیلئے تمام تر انتظامات ہر لحاظ سے مکمل ہونے چاہیئں اور اس ضمن میں مائیکرپلان کے مطابق عملدرآمد کیا جائے تا کہ گزشتہ کمزوریوں اور خامیوں کا سو فیصد ازالہ ممکن ہو سکے اور اس مہم کے سو فیصد نتائج حاصل ہو سکیں۔انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم کے دوران کورونا ایس او پیز کا مکمل خیال رکھا جائے اور قطرے پلانے والی ٹیموں کی روزانہ کی بنیاد پر سکریننگ کی جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ٹیموں کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ بھی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی علاقہ ایسا نہ رہے جہاں پولیو ٹیم نہ پہنچی ہو اور نہ ہی کوئی بچہ پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جانے سے محروم رہ جائے۔

Advertisement

اپنا تبصرہ بھیجیں