اینٹی سموگ مہم اور بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی کی منتقلی کی وجہ سے ضلع منڈی بہاﺅالدین صوبہ بھر میں چوتھے نمبر پر آگیا

منڈی بہاو الدین( ایم.بی.ڈین نیوز 25نومبر2020)ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا کی ہدایت پر جاری اینٹی سموگ مہم اور بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی کی منتقلی کی وجہ سے ضلع منڈی بہاﺅالدین صوبہ بھر میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ اب تک کی کاروائیوں میں مختلف خلاف ورزیوں جن میں پرانی طرز کے بھٹہ جات کو چلانے، فصلوں کی باقیات جلانے،دھواں چھوڑنے، سموگ اور فضائی آلودگی کے مرتکب 66افراد کو 2لاکھ 44ہزار 500روپے جرمانہ کیا گیا، 36افراد کے خلاف استغاثہ جبکہ مذید 28افراد کے خلاف ضلع کے مختلف تھانہ جات میں ایف آئی آرز درج کروا کر گرفتار کروا دیا گیا۔

یہ بات ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا کو محکمہ ماحولیات، زراعت (توسیع)، پولیس اور روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے ضلع بھر میں جاری مشترکہ اینٹی سموگ مہم کی کاروائیوں کے حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتائی گئی۔رپورٹ کے مطابق منڈی بہاﺅالدین میں 308بھٹہ خشت قائم تھے جن میں سے 128زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو کر آپریشنل ہو گئے ہیں جبکہ 56بھٹوں کا زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔اسی طرح مختلف کاروائیوں میں اینٹی سموگ مہم کے تحت 92بھٹہ خشت کوخلاف ورزیوں پر سیل کر دیا گیا جبکہ 24بھٹہ خشت از خود بند ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اینٹی سموگ مہم کے تحت دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف جاری کاروائیوں میں اب تک ایک لاکھ 50ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ۔

جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سموگ انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے جس کے انسانی زندگی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ فصلات، باغات اورسبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں انسداد سموگ کے حوالے سے پہلے سے ہی پابندی عائد ہے جس کے تحت کوڑا کرکٹ، پولی تھین بیگ کی تیاری، ربڑ کی اشیا، دھان اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے، پرانی طرز کے بھٹہ جات کو چلانے، دھوں چھوڑے والی گاڑیوں اور ٹائرز جلانے پر سخت پابندی عائد ہے اور حکومت نے سموگ کو پہلے ہی آفت کا درجہ دیا ہواہے اور اس آفت سے بچنے کیلئے کسان اور عوام الناس حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کریں تا کہ شہریوں کو صحت مند ماحول اور آلودگی سے پاک زرعی شعبے کو فروغ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کا باعث بننے والے صنعتی یونٹس جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے دھوئےں پر قابو پائیں اور حکومت اور انتظامیہ کی معاونت کریں کیونکہ سموگ فری ماحول میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو واضح کیا کہ روایتی بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی کا عمل جلد سے جلد مکمل کروائیں اور جو بھٹہ جات زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہیں ہوئے ان بھٹہ جات کو سیل کر دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں