وہ نبیوں میں رحمت کا لقب پانے والا ( تحر یر: راجہ منصور علی خان)

Advertisement
Advertisement

“وہ نبیوں میں رحمت کا لقب پانے والا ” تحر یر: راجہ منصور علی خان

اللہ تعالی نے انسانیت کی رہنمائی کے لئے محض فطری بصیرت اور عقل کی روشنی پر اکتفاءنہیں کیا بلکہ انسانوں میں سے ہی کچھ برگزیدہ اور مقبول ہستیوں کو انسانیت کی رہنمائی کے لئے منتخب کر کے انہیں بنی نو ع انسان کے لئے نمونہ عمل بنا کر بھیجا۔ انسانی تمدن جب رفتہ رفتہ ترقی کے انتہائی مقام تک پہنچا تو ایک ایسے رسول کی ضرورت ہوئی جو بلا امتیاز رنگ ونسل تمام انسانوں کے لئے بشیر و نذیر ہوں ان کی تعلیمات دائمی اور عالم گیر ہوں ان کی سیرت کا ملیت اور عملیت کی پیکر مجسم ہو۔ ان کا ہر قول واجب اطاعت اور ہر عمل لائق تقلید ہو۔ چنانچہ اللہ تعالی نے حضر ت محمد مصطفی ﷺ کو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا اور انسانیت کی کامیابی اور سرخرو ئی آپ کی پیروی پر منحصر کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی حیات طیبہ کے عہد سے لے کر آج تک ہر دور میں مطالعہ کر کے اس پر عملی تقلید بھی جاری و ساری ہے۔ اور اس حوالے سے منععقد کی جانے والی محافل و مجالس میں اہل ایمان اپنی روحانی تسکین کا سامان بھی کرتے رہتے ہیں۔

اسلامی ادبیات میں سیرت طیبہ کو جو مقام حاصل ہے وہ محتاج وضاحت نہیں آپ ﷺ کی زندگی مکارم اخلاق کی صحیح تصویر آپ کے ان معجزات کا استیعاب و تفصیل جن کی جلوہ ریزی آپ کی پوری سیرت و دعوت اور انفرادی واجتماعی زندگی میں نظر آتی ہے۔ اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے ساتھ آپ کا معاملہ آپ کا حسن سیرت کمال ظاہر و باطن آپ کی محبت و شفقت اور دل داری و دل نوازی آپ کی دعائیں اور خدا سے عرض حال بنی نوع انسان اور انسانیت کے مستقبل کے لئے آپ کی بیقراری اور دل سوزی آپ کی فصاحت و بلاغت ، علم وحکمت اور کمال و جامعیت کی ان روشن جان نواز نشانیوں اور زندہ و لافانی معجزوں کا مفصل و مکمل بیان قریب نا ممکن ہے۔ آپ کی سیر ت طیبہ کامطالعہنہ صرف ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے بلکہ ہر فردبشر ہر انسانی نسل اور ہر طبقے کی ہدایت کی ضرورت ہے۔

یوں تو پاکستان بھر میں ہر سال ماہ ربیع الاول کے مہینے میںسیرت طیبہ اور نبی کی تعلیمات سے متعلق محافل میلاد کے پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں لیکن اس بار وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار کی ہدایت پر صوبے بھر میں © ©”ہفتہ شان رحمة اللعالمین ﷺ ©”منانے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔اس موقع کی مناسبت سے خصوصی پروگراموں کا انعقاد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کا بنیاد ی مقصد بارہ ربیع الاول کے موقع پر نہ صرف حضور پاکﷺ کی شان کریمی اور رمحاسن کو بیان کرنا ہے بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات جو احکامات الہی کا حقیقی عکس ہیں کو صحیح معنوں یں دہراناہے تاکہ تاریک اور پراگندہ روحوں کو ایمان کی شمع سے روشن کیا جاسکے۔جس کی شہادت قرآن پاک کی (سورة الاحزاب) آیت نمبر21 میں ارشاد ربانی ہے کہ”تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے”۔

حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا کوئی پہلو تاریخ کی نظر سے اوجھل نہیں بلکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی سب کے سامنے ہے اور جو کچھ ہے وہ سب کے لئے کافی ہے۔ عیسائیوں ، یہودیوں ، بدھوں ، ہندﺅں ، ایرانیوں سب ہی کی مذہبی کتابوں میں آ پ کی آمد کا ذکر ہے۔ دنیا کی کوئی شخصیت ایسی جانی پہچانی روشن تابناک نہیں جتنی آپﷺ کی شخصیت ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سارے جہان کے لئے عملی نمونہ ہے۔ ماہ ربیع الاول آتے ہی پوری دنیا کے مسلمان جوش وخروش سے آقائے دو جہان کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کرتے ہیںاور میلاد النبی کی خوشی مناتے ہیں اوریہ محبت رسولﷺ کی علامت ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے آپ کی ولادت باسعادت عظیم خوشی کا دن ہے۔ اسی دن محسن انسانیت آقاءکائنات فخر موجودات نور مجسم نبی اکرم سرکارِ دوعالم ﷺ خاکدان گیتی پر جلوہ گرہوئے۔ آپ ﷺ کی بعثت اتنی عظیم نعمت ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت نہیں کر سکتی ۔ آپ قاسم نعمت ہیں ساری عطائیں آپ کے صدقے ملتی ہیں۔ جیسا کہ ایک حدیث پاک میں ہے “میں بانٹتا ہوں اور اللہ دیتا ہے۔(بخاری مسلم)” اور اسی طرح قرآن پاک کی سورہ الانبیاءآیت نمبر107 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ “اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ”

یہ بالکل واضح ہے کہ آپﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ حضورنبی پاک ﷺ کی آمد دنیا میں رحمت بن کر آئی ہے آپ کی تشریف آوری پر خوشیاں منانے کا حکم بھی قرآن دے رہا ہے اور اللہ تعال کے اس فرمان عالی شان پر ہمیشہ سے مسلمان عمل کرتے آرہے ہیں۔ ایک اور دوسر ی جگہ سورة عمران کی آیت نمبر 164 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ “بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ ”

اس آیت کریمہ میں رب العزت اپنے پیارے محبوب ﷺ کی بعثت پر احسان جتلا رہا ہے جس سے پتہ چلاکہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہیں کیونکہ اتنی بے شمانعمتیں عطا فرمانے کے باوجود کسی نعمت پر احسان جتلانے کا ذکر نہیں کیا لیکن اپنے پیارے محبوب کی بعثت کا تذکرہ کیاتو احسان جتلانے کا اعلان ہو رہاہے لہذا اللہ تعالی کی اتنی عظیم الشان نعمت پر خوشی منانا فرض ہے جو کہ ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔

Advertisement

اپنا تبصرہ بھیجیں