کورونا وائرس کو سیکنڈوں میں تباہ کرنے والا ماؤتھ واش

لندن: برطانوی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں بنایا جانے والا ایک ماؤتھ واش ’ڈینٹائل‘ جو پودینے (منٹ) اور لونگ کے ورژن کے ساتھ بازار میں موجود ہے بہت مؤثر انداز میں کورونا وائرس کو ختم کرسکتا ہے۔

کارڈِف یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ڈینٹائل میں ایک اہم کیمیکل ’سیٹل پائریڈینیئم کلورائیڈ‘ پایا جاتا ہے۔ اگر کسی ماؤتھ واش میں اس کلورائیڈ کی 0.07 مقدار موجود ہو تو وہ کورونا وائرس کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ اب ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈینٹائل سے غرارے کرنے سے صرف 30 سیکنڈ میں کورونا وائرس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اس کے تجربات گزشتہ ہفتے ایک تحقیقی جریدے میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔ یہ ماؤتھ واش کورونا کے مریضوں پر آزمایا گیا تو اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ آزمائش کارڈیف میں واقع یونیورسٹی ہاسپٹل آف ویلز میں کی گئی ہیں۔ اس تجربے میں مریضوں کو کئی طرح کے ماؤتھ واش دیئے گئے اور اس کے بعد ان کے تھوک کا معائنہ کیا گیا۔ لیکن ان تجربات کی مزید تفصیلات اگلے سال شائع کی جائیں گی۔ ممتاز سائنس داں پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے یہ تحقیقات کی ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ مریضوں سے قبل تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے نتائج آنا باقی ہیں کیونکہ مریضوں پر اس کی آزمائش جاری ہے۔ اس طرح ہاتھ دھونے، ماسک پہننے اور اس پر ڈینٹائل جیسے ماؤتھ واش کی بدولت بہت سی جانوں کو بچایا جاسکے گا۔

ایکسپریس نیوز کا تبصرہ جاتی اضافہ
حال ہی میں کووڈ 19 کے چنگل سے آزاد ہونے والے ایک شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بیمار ہونے کے بعد سانس لینے سے قاصر تھے۔ سخت پریشانی اور تکلیف میں انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ لونگ کے 10 سے 12 دانوں کو پانی میں ابالیں اور اس کی بھاپ لیں۔

جب انہوں نے یہ عمل کیا تو صرف پانچ سے 10 منٹ بعد ہی ان کی سانس بحال ہوگئی اور اب وہ مکمل طور پر تندرست ہیں۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ شاید لونگ میں موجود کسی کیمیکل کی وجہ سے شفا ملی ہے۔ واضح رہے کہ ڈینٹائل کمپنی کی خبر میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ آیا مریضوں پر پودینے والا ماؤتھ واش آزمایا گیا یا پھر لونگ والا، یا دونوں ماؤتھ واش ہی دیئے گئے تاہم سائنس دانوں نے یہ بتایا ہے کہ اس میں اہم عنصر ’سیٹل پائریڈینیئم کلورائیڈ ہے۔

اب یہ بات واضح ہے کہ خود لونگ اور اس کے تیل میں ’سیٹل پائریڈینیئم کلورائیڈ‘ پایا جاتا ہے۔ اس لیے کورونا کے مریض جہاں دیگر بہت سی چیزوں کو آزماتے ہیں وہیں لونگ کے گرم پانی کی بھاپ کے استعمال میں کوئی ذائقہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں