انسداد سموگ کی آگاہی پر عملدرآمد کرکے ہی صحت مند ماحول اور زرعی شعبہ میں لازال ترقی حاصل کی جا سکتی ہے

منڈی بہاو الدین( ایم.بی.ڈین نیوز 18اکتوبر2020)اسسٹنٹ کمشنر پھالیہ ساجد منیر کلیار نے کہا ہے کہانسداد سموگ کی آگاہی پر عملدرآمد کرکے ہی صحت مند ماحول اور زرعی شعبہ میں لازال ترقی حاصل کی جا سکتی ہے ،سموگ سے بچنے کیلئے کاشتکار دھان کی باقیات کو جلانے سے گریز کریں،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی ترقی کیلئے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں جس کے دو رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں پھالیہ میں انسداد سموگ اور دھان کی فصل کی بڑھوتری کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ سیمینار میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمد اقبال،اسسٹنٹ ڈائریکٹرز زراعت، کسان بورڈ کے نمائندوںکے علاوہ کسانوں اور زمینداروںکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اسسٹنٹ کمشنر ساجد منیر کلیار نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ حکومت کی نظر میں زرعی شعبہ بڑے اہمیت کا حامل ہے ۔ کسانوں کو جتنا زیادہ ریلیف حاصل ہو گا ملک اتنا زیادہ ترقی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت فصل کی پیداوار سے لے کر کٹائی تک کاشتکاروں کو مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ کاشت کار زیادہ سے زیادہ فصل اگا کر ملک معیشت میں اہم کردار ادا کرے ۔ انہوں نے کسانوں کو باور کرایا کہ انتظامیہ نے جعلی ادویات کی روک تھام کے حوالے سے متعلقہ محکمے سخت کاروائیاں کر رہے ہیں اور جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شیخ محمد اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کے فروغ کیلئے کسانوں کو زرعی آلات اور دیگر مشینری کے حصول پر 50فیصد سبسڈی دے رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کہ حکومت نے سموگ کو آفت کا درجہ دے دیا ہے اور اس آفت سے بچنے کیلئے کسان حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کریں تا کہ شہریوں کو صحت مند ماحول اور آلودگی سے پاک زرعی شعبے کو فروغ مل سکے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگی، فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جس کیلئے محکمہ زراعت فصلوں کی باقیات کو جلانے کی واقعات کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے ۔

انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ سموگ سے تحفظ کیلئے فصلوں کی باقیات بالخصوص دھان کی مڈھوں کو جلانے سے گریز کریںکیونکہ زمین پر مڈھوں کو جلانے سے نامیاتی اجزاءکی کمی سے زمین کی طاقت ختم ہو جاتی ہے جس سے فصل پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان دھان کے مڈھوں کو زمین میں ملا کر زمین کی ذرخیزی میں اضافہ کریں اور بہتر پیداوار حاصل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں