گھومتے ٹائروں کی مٹّی (تحریر: محمد ندیم اختر)

گھومتے ٹائروں کی مٹّی

برصغیر کے دور دارز شہر کے کھلیان سونا اگلتے تھے۔گندم کے خشک خوشے لہلہاتے تو موتیوں کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی۔جب فصلیں پک جاتیں تو وہ کھیت چڑیوں کی اماج گاہ بن جاتے تو لوگوں نے چڑیوں کو پکڑنے کے لیے باز پال لیے ۔ بازوں نے چڑیوں کی بجائے چڑے پکڑنے شروع کر دئیے۔ باز کے مالک انہیں روسٹ میں اڑاتے جس سے ان کی قوت میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ بے پناہ قوت کو دیکھتے ہوئےچڑے اس شہر کے ہوٹلوں پر سپلائی ہونے لگے۔ جب چڑوں کی تعداد کم رہ گئی تو چڑیوں نےاحتجاج شروع کر دیاکہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔۔

دوسری طرف جب چڑوں کی تعداد کم ہوئی تو تمام شکاری پرندے اس احتجاج میں شامل ہوگئے۔ اس احتجاج میں ایسے پرندے بھی شامل ہو گئے جو ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے ۔اس میں وہ کوا بھی شامل تھا جو ہر روز چڑیا کے انڈے اٹھا کر لے جاتا۔ اس احتجاج میں وہ کوئل بھی شامل تھی جو دوسرے پرندے کے گھونسلے میں انڈے دے کر دوسرے پرندے کے انڈے گرا دیتی تھی۔ سب کے سب ایک ہی مقصد کے لیے اکھٹے تھے کی چڑے اور چڑیوں کا شکار بند کیا جائے کیونکہ سب کا مفاد چڑیوں سے جڑا تھا۔۔ان کی احتجاجی اڑان تا حال جاری تھی اسی اثنا وہ زمیں پرٹرکوں کی لمبی قطاریں دیکھتے ہیں ،مشاہدہ کرتے ہیں اور
اپنے مطالبات کو پس پشت ڈال کر ان ٹرکوں کو دیکھتے ہیں جو برصغیر کے دور دراز شہروں سے سفر کرتے یہاں پہنچے تھے۔ ان کے ٹائروں پر لگی مختلف قسم کی دھول مٹّی جس میں پتھر کے ٹکڑے، کیچڑ سے لبڑے ، گوبر سے سبز اور کہیں سے تو ابلتے گٹروں سے گزر کر آئے تھے۔حتی کہ جو ٹرک بھی آیا سب کا یہی حال تھا۔۔

مطلب ٹرک ہر قسم کا مال اپنے پہیوں ساتھ اٹھا لائے تھے۔ ٹرک احتجاج کر رہے تھے کہ پانی کو پابند کیا جائے کہ وہ ہمارے ٹائروں سے دور رہے اس احتجاج میں زیادہ تر وہ ٹرک شامل تھے تھے جو اس گندگی پھیلانے کا بڑا سبب تھے۔ اور جب ایک دوسرے کے قریب سے گزرتےایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے اور آج وہ آہستہ رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے ۔یہ منظر دیکھ کے چڑیاعجیب سے کشمکش شکار ہوگئیں ۔ اور سوچنے لگیں زمیں والے اپنے مفاد کے لیے اکٹھے ہوگئے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے اکٹھے ہو گئے مگر ہم اپنے مفاد کی خاطرہمیں نقصان پہنچانے والے کووں کو ساتھ نہیں ملائیں گے۔ کوے دور انڈے محفوظ

تحریر: محمد ندیم اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں