کریم تمھاری ،لسی ہماری (تحریر: محمد ندیم اختر)

کریم تمھاری ،لسی ہماری

تین سال شہر منڈی کے نامی گرامی سکول میں زیر تعلیم رہنے کے بعد وجہ ناکامی عثمان واپس اپنے پنڈ کے سرکاری سکول میں داخل ہوا۔گھر میں پیسے کی ریل پیل تھی۔وہ والدین کی یہ خواہش پوری نا کر سکا کہ وہ اس کو شہر کے اچھے پرائیویٹ سکول میں تعلیم دلوا سکیں۔ گاؤں کے پرائمری سکول میں وہ اوّل جماعت میں داخل ہوا۔ اساتذہ نے اس پر خصوصی توجہ دینا شروع کی۔جس کے سبب جلد ہی وہ کلاس میں نمایاں ہو گیا۔پہلے سال ہی اس نے اپنی جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی اس کی محنت اور اساتذہ کی توجہ کا سلسلہ چلتا رہا۔۔

اکبر کو باہر والے ملک گئے تین سال گزر گئے تھی اس کے تینوں بڑے بیٹے اسی گاؤں کے سرکاری سکول میں پڑھ کر جوان ہوئے تھے پڑھنے میں ان کاسکول میں نام تھا۔ الله پاک کے کرم سے اکبر کا کام سیٹ ہوا تو پیسہ آیا۔ اکبر کے گھر والی اب مسّز اکبر بن چکی تھی ۔۔ اکبر کا چوتھا بیٹا جو ماشاء اللّٰہ گاؤں کے پرائمری سکول میں دوسری جماعت میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اپنی جماعت سے دوسری پوزیشن لے کرترقی حاصل کی تھی۔

مسّز اکبر نےسٹیٹس کو اپ گریڈ کرنے کے لیے اس کوسرکاری سکول سے نکال کر پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیا۔ صوفی نزیر کے ماشاءاللہ دو بیٹوں کے سات پوتے پوتیاں وی بس پر شہر جاتے ہیں پڑھنے کے لیے ایک پوتا تو آٹھویں سے بھاگ آیا تھا جی وہاں سے۔۔پترکا کاروبار چنگا ہے پنڈ میں۔ پنڈ کے پرائیویٹ سکول کے دفتر میں سٹاف کی میٹنگ جاری تھی سرکاری سکول میں پڑھنے والے متوسط اور غریب طبقے کے بچوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا جو پڑھنے میں قابلیت رکھتے تھے۔ طے کیا گیا ان بچوں کو کسی بھی طرح سرکاری سکول نکال کر اپنے سکول لانا ہے تاکہ ہمارا رزلٹ بن سکے اور نام کوچار چاند لگ سکے۔۔

چاچا رفیق کا ایک بچہ پنجوین پاس کر گیا تھا سرکاری سکول سے فیس کے بغیر۔۔ اب اپنے نکّے پتر کے لیے وہ بغیر فیس کے پرائیویٹ سکول کے لیے مان گیا تھا اور ساتھ کمال دین کو وی منا لیا یہ ادھی فیس لیں گے۔ کہانی یوں بنتی ہے یہ ساری کہانی تین کیٹگریز میں تقسیم ہوتی ہے۔ پہلی پیسے کی ریل پیل سرکاری سکول نہیں آنے دیتی. دوسری سرکاری اساتذہ کی محنت سے تیار بچے پرائیویٹ ادارے نکال کر لے جاتے ہیں جن سے وہ اپنا رزلٹ شو کرتے ہیں اور پبلک ادارے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

تیسری جو دوران سال اپنے بچوں کو اس لیے لے جاتے ہیں کہ پڑوسی کیا کہیں گے ۔ اس کے نتائج یہ نکلتے ہیں سرکاری سکول کے پاس متوسط طالب علم بچتے ہیں جن کو نکھارنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں ۔ اب عثمان ماشاءاللہ چوتھی جماعت میں اول آیاہے سالانہ تقریب انعامات میں اس کے ابو اپنے پاس بیٹھے اپنے کزن سکول کونسل کے ممبر چوہدری باقر سےبول رہے تھے ۔ عثمان اب محنت کرنے لگ گیا ہے سوچ رہا ہوں اب اسے کسی اچھے پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دوں

محمد ندیم اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں