معلّم (تحریر: محمد ندیم اختر)

معلّم

حدیث شریف کا مفہوم ہے ، بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ حضرت علی رضی الله تعالیٰ قول ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا وہ میرا استاد ہے۔

اساتذہ کا مقام و مرتبہ دنیا کے ہر پیشہ ور افراد سےکہیں بلند ہے۔دینی حوالے سے. بھی اور دنیاوی حوالے سے بھی اس کی نفی نہیں کی جاسکتی۔ معاشرہ اور معاشرت میں کردار سازی میں والدین کےبعد استاد کا مقام آتاہے۔۔۔۔ استادکےشاگرد جس مقام پر بھی ہوتےہیں۔دنیا کا جو بھی پیشہ اپناتے ہیں۔ عام انسان کے لیے سہولت کار یا وسائل پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں وسائل چاہے انسانی وسائل، سرمائےکے وسائل ہوں یا قدرتی وسائل کادرست طریقے سے استعمال ۔ یہ سب ایک استاد کے مرہوں منت ،اسی کی محنت کا نتیجہ ہے۔۔

ایک انسان کی کامیابی میں کسی ایک استاد کا کردار نہیں ہوتا،اس کی زندگی کے ابتدائی ایام سے لیکر تعلیم مکمل ہونے تک اس کی شخصیت سازی اود کامیابی بے شمار اساتذہ کی صلاحیتوں کا نچوڑ ہوتا ہے۔

یہ کامیابی ضروری نہیں کہ اعلیٰ تعلیم ہی ہو ۔
تعلیم محدود لامحدود،حاصل لاحاصل ہو ناہو

یہ باتیں معنی رکھتی ہیں شاگرد جو پیشہ اپناتا ہے اس سے کتنا مخلص ہے اور ایمانداری اس کا خاصہ ہو۔ کسی بھی شخص کی ذہنی استطاعت ایک جیسی نہیں ہوتی اور ایک استاد اس کو اس کی ذہنی استطاعت کے مطابق سکھاتا ہے۔ اور استاد کامیاب ہی ہوتا ہے۔ آپ کی زندگی میں آنے والے استاد سے آپ نے بہت کچھ سیکھا ہوتا ہے۔۔ ہر استاد اپنی استطاعت کے مطابق بہترین سکھاتا ہے پھر ہمارے نظام تعلیم میں ہی استاد کی عزت کو تقریق کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔

بچہ چہارم جماعت میں جاتا ہے تو “میرا بہترین استاد” مضمون لکھنا شروع کرتا ہے جو اگلے دس سال یہی باور کرواتا ہے کہ بہترین استاد ایک ہی ہوتا ہے۔۔ یہ ایک مضمون نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتا ایک وراثتی فتور ہے جو ہر استاد کے لیے باعث ذہنی اذیت ہے۔ اس مضمون کو ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ کیونکر بنایا گیا ہے۔ جس میں صرف ایک استاد کی تکریم اور دوسرے اساتذہ کو پس پشت رکھا جاتا ہے۔ حالانکہ استاد کا رتبہ برابر ہے۔

استاد استاد ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔۔ اور ایک ذہنی طور پر صحت مند معاشرے میں ۔۔میرا بہترین استاد نہیں. بلکہ “میرے بہترین استاد” ہوتے ہیں۔ اور میری زندگی میں آنے والے تمام استاد بہتر سے بہترین ہیں ۔چاہے میں نے ان سے پڑھا یا نا پڑھا ہو۔۔ کیونکہ استاد ،ہمیشہ استاد ہوتےہیں ۔سر تسلیم خم

تحریر: محمد ندیم اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں