ریسٹورنٹس نے فوڈپانڈا کا بائیکاٹ کردیا

آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (ای پی آر اے) نے کمیشن میں اضافے کی وجہ سے کراچی میں فوڈپینڈا کا تین دن کے لئے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بائیکاٹ ابتدائی طور پر تین دن کیلئے ہوگا اور معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں مستقل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ای پی آر اے کے چیئرمین محمد نعیم صدیقی نے فوڈ پانڈا کے سی ای او کو خط لکھ کر کہا ہے کہ فوڈپینڈا بار بار اپنے کمیشن میں اضافے کے لئے ریسٹورنٹس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اگر ریسٹورنٹس کی شکایات پر توجہ نہ دی گئی تو فوڈ پانڈا کے ساتھ مستقل طور پر کام کرنا چھوڑ دیں گے۔

نعیم صدیقی کا کہنا ہے کہ پہلے ہی ریسٹورنٹس کی صنعت میں منافع کا مارجن کم ہے۔ اس کے باوجود کمیشن میں اضافے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور 25 سے 30 فیصد کمیشن مانگا جارہا ہے جو ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کھلنے والے ریسٹورنٹس کیلئے یہ خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ ان کے آغاز میں ہی اخراجات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

نعیم صدیقی نے کہا کہ فوڈ پانڈ کی انتظامیہ ریسٹورنٹس مالکان کو بلیک میل کرتے ہیں تاکہ کمیشن کو کئی گنا بڑھایا جا سکے۔ فوڈ پانڈا نے دھمکی دی ہے کہ کمیشن کو 18 فیصد سے بڑھاکر 25 فیصد نہ کیا گیا تو وہ ریسٹورنٹس کو اپنے پورٹل اور ایپلی کیشن سے ہٹا دیں گے۔ یہ ریسٹورنٹس مالکان کو اپنے شرائط منوانے کا انتہائی غیراخلاقی طریقہ ہے اور اسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

فوڈپانڈا پر مسابقت کچلنے کا الزام
اے پی آر اے کے چیئرمین نے فوڈ پانڈا پر الزام لگایا کہ وہ ریسٹورنٹس کو دوسری ڈلیوری کمپنیوں کے ساتھ کاروبار سے زبردستی روک کر اپنے کاروباری حریفوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوڈ پانڈا کا اصل کام صارفین کو ریسٹورنٹس سے منسلک کرنا تھا اور اس کی اپنی ڈلیوری ایک آپشن کے طور پر بعد میں متعارف کرائی گئی مگر فوڈ پانڈا زبردستی ریسٹورنٹس کی ڈیلیوی سروس بند کروانے پر مجبور کر رہی ہے جس کے باعث ریسٹورنٹس کا اپنا ڈلیوی کا عملہ بیروزگار ہورہا ہے اور ریسٹورنٹس کا اپنے صارفین کے ساتھ رابطہ بھی منقطع ہورہا ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول طرز عمل نہیں ہے۔

نعیم صدیقی کے مطابق بعض ریسٹورنٹس مالکان نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ فوڈ پانڈا ان کو دوسرے ڈلیوری کمپنیوں کے ساتھ کاروبار سے روکتا ہے۔ یہ کاروبار کے مسابقتی اصولوں کے خلاف ہے اور اسے مسابقتی کمیشن آف پاکستان میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے عہدیدار اسفند یار خٹک نے سماء منی کو بتایا کہ کمیشن اس معاملے پر غور کر رہا ہے اور یقینی طور پر مسابقتی کاروبار کو دبانے کا بھی جائزہ لے گا۔

نعیم صدیقی نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اسی طرح کے خدشات اٹھائے تھے لیکن فوڈ پانڈا کی طرف سے کوئی مستقل حل نہیں نکلا۔ اس کے نتیجے میں آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے کراچی میں فوڈ پانڈا کے ساتھ تین دن کیلئے کام بند کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 15 ستمبر سے کراچی میں اپنی سروس بند کریں گے۔ اگر اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو ان کے پاس ملک بھر میں خدمات کو مستقل طور پر بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

سماء منی نے فوڈ پانڈا کا موقف جاننے کیلئے کمپنی کے سی ای او نعمان مرزا سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور معاملے کا جائزہ لینے کے بعد آگاہ کریں گے۔ ان کی طرف سے جواب آنے کے بعد اس خبر میں شامل کرلیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں