تحریک نفاذ اردو ایک تہذیبی شناخت (تحریر: محمد ندیم اختر)

تحریک نفاذ اردو ایک تہذیبی شناخت

21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان قائد اعظم نے واضح فرمان جاری کیاکہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے جو اس سے گمراہ کرتاہے وہ پاکستان کا دشمن ہے ۔ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں رہ سکتی۔۔ زبان کسی بھی قوم کی شناخت ، پہچان تہذیب و تمدن کا شاخسانہ ہوتی ہے۔۔ قوموں کے عروج و زوال کا انحصار زبان دانی پر ہے۔ معاشرتی اقدار پنپنے اور ان کو جِلابخشنے کا سبب زبان کی معرفت حاصل ہو سکتا ہے۔۔۔14 اگست 1947کو پاکستان کے قائم ہونے کے بعد جب سرکاری طور پر اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ اس وقت سے لسانی طور پر اس زبان کو تعصب کا سامنا رہا لیکن پاکستانیت کو سب سے زیادہ نقصان انگریز کی وراثت نے پہنچایا۔۔

فرنگ نے وراثت بھی چھوڑی
ساتھ ہی وارث چھوڑ دئیے

انگریزی زبان کا ناسور پاکستانی قوم کی جڑوں میں بیٹھ گیا ۔اس ناسور کو ہرا بھرا رکھنے کے لئے ہم ساری توانائیاں صرف کر رہے ہیں اس کو ہم زندہ رکھنے کے لیے انگریزی بھیس اپنائے ہوئے ہیں ۔۔ یہ بھی ایک تہذیب اور ثقافتی یلغار ہے ۔ کسی بھی قوم کی زبان کا دوسری قوم کی رگوں میں سرایت کر جانا ، اجا داری قائم کرنا

دراصل دو قوموں کی تہذیبوں کا ٹکراؤ ہے۔ قوم کے ثقافتی ورثے میں نقب زنی ہے۔۔۔دو زبانوں کا گڈ مڈ ہو جانا ترقی کے زینےکوتوڑنے کے مترادف ہے۔
ملت کو یکجا ہونے کےلیے یک زبان ہونا ضروری ہے ۔یک زبان ہونا کس طرح ممکن ہے . ہمیں انگریز کے دئیے ہوئےانڈوں سےبچے نکلنے سے روکنا ہوں گے۔۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کی حوصلہ شکنی اس پرکارگر وار ثابت ہو گا۔مگر اس کےلیے ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ تب ہم اپنے بچوں میں زبان کے جزویات کو اجاگر کر سکیں گے۔پھر ایک قوم تیار ہو گی جو خالصتاً نظریاتی ہو گی۔

اردو زبان تنگ نظر زبان نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر زبان کو سمونے کی جگہ رکھتی ہے ہونا صرف یہ چاہیے کہ اردو کا تشخص قائم رہے۔۔ تحریک نفاذ اردو ملک خداداد میں اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ قوم بغیر کسی تفریق ،بغیر کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے یکساں طور پر ترقی کی منازل طے کر سکے اور یہ قوم ایک مٹھی کی مانند یکجان ہو کر پاکستان کو ترقی کی بلندیوں تک لے جائے

تحریر: محمد ندیم اختر . (ڈھوک کاسب)

اپنا تبصرہ بھیجیں