فیضانِ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

اﷲ عزوجل کے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہر صحابیؓ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ حق و باطل کے مابین فرق کرنے والا ہے لیکن امیرالمومنین حضرت سیّدنا عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ’’فاروق اعظم‘‘ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آپؓ نے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے زیادہ اس فریضے کو سرانجام دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپؓ کی حق و باطل کے درمیان یہ فرق کرنے کی صلاحیت بارگاہِ رسالتؐ سے خاص طور پر عطا ہوئی تھی۔ چناں چہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جس دن اسلام لائے، اسی دن آپؓ نے مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ کعبۃ اﷲ شریف میں نماز ادا کی اور طوافِ بیت اﷲ بھی کیا۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں، مفہوم: ’’اس دن دوعالم کے مالک و مختار، مکی مدنی سرکار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خود میرا نام ’’فاروق‘‘ رکھ دیا کیوں کہ اﷲ عزوجل نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرما دیا۔

آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے، یوں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تاریخ ولادت 583 عیسوی تقریباً 41 سال قبل ہجرت ہے۔ حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عام الفیل کے اڑھائی سال بعد پیدا ہوئے، یوں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سیّدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے عمر میں تقریباً ساڑھے دس سال چھوٹے ہیں اور سرکارِ مدینہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم چوں کہ عام الفیل کے ساتھ دُنیا میں تشریف لائے، یوں آپ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عمر میں تقریباً تیرہ سال چھوٹے ہیں۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لمبے قد والے اور بھاری جسم والے تھے۔ چند لوگوں میں جب آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دیگر لوگوں کو اوپر سے دیکھ رہے ہیں۔

آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بولنے اور بات کرنے کا نہایت ہی مبارک انداز تھا، عام معاملات میں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی گفت گُو کا انداز بہت نرم تھا لیکن آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چہرہ مبارک کی وجاہت اور رعب و دبدبے کی وجہ سے اس میں شدت محسوس ہوتی۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں لوگوں کو سب سے زیادہ حق بات کہنے کا حوصلہ ملا لیکن جہاں کہیں شرعی معاملے کی خلاف ورزی ہوتی وہاں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سختی فرماتے اور یقینا یہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی غیرتِ ایمانی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ بیسیوں واقعات ایسے ملتے ہیں کہ جہاں کہیں اسلامی غیرت کا معاملہ آتا وہاں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فوراً جلال میں آ جاتے۔

فاروق اعظم حسنین کریمین کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے تھے۔ حضرت سیّدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب خلافت فاروقی میں اﷲ تعالیٰ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ہاتھ پر مدائن فتح کیا اور مالِ غنیمت مدینہ منورہ آیا تو امیرالمومین حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبویؐ میں چٹائیاں بچھوائیں اور سارا مالِ غنیمت ان پر ڈھیر کروا دیا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان مال لینے جمع ہو گئے، سب سے پہلے حضرت سیّدنا امام حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’اے امیرالمومنین! اﷲ عزوجل نے جو مسلمانوں کو مال عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حصہ مجھے عطا فرما دیں۔‘‘

آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’آپ کے لیے بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔‘‘ ساتھ ہی آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک ہزار درہم انہیں دیدیے، انہوں نے اپنا حصہ لیا اور چلے گئے۔ اُن کے بعد حضرت سیّدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنا حصہ مانگا۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’آپ کے لیے بڑی پذیرائی اور کرامت (عزت) ہے۔‘‘ ساتھ ہی آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک ہزار درہم انہیں بھی دیدیے۔

اس کے بعد آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے صاحب زادے حضرت سیّدنا عبداﷲ ؓ اُٹھے اور اپنا حصہ مانگا، آپ نے انہیں پانچ سو درہم عطا فرمائے، انہوں نے عرض کیا: ’’اے امیر المومنین! میں نے اس وقت بھی حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تلوار اُٹھا کر جہاد کیا ہے جب سیدنا حسن و حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کم عمر تھے، اس کے باوجود آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انہیں ایک ایک ہزار درہم اور مجھے پانچ سو عطا کیے؟‘‘

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ سننا تھا کہ اہل بیت کی محبت کا سمندر موجیں مارنے لگا اور عشق و محبت سے سرشار ہو کر ارشاد فرمایا: ’’جی ہاں، بالکل! (اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بھی ان کے برابر حصہ دوں تو) جاؤ پہلے تم حسنین کریمین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے باپ جیسا باپ لاؤ، ان کی والدہ جیسی والدہ، ان کے نانا جیسا نانا، ان کی نانی جیسی نانی، ان کے چچا جیسا چچا، ان کے ماموں جیسا ماموں لاؤ اور تم کبھی بھی نہیں لا سکتے، کیوں کہ ان کے والد علی المرتضیٰ شیرخدا کرم اﷲ وجہہ ہیں، ان کی والدہ سیّدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں، ان کے نانا محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ان کی نانی سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں، ان کے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں، ان کے ماموں حضرت ابراہیم بن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ان کی خالائیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیاں ہیں۔‘‘

امیرالمومنین حضرت سیّدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی مکمل خلافت اور اس کے مختلف نظام دیکھے جائیں تو بڑے بڑے دانش ور حیران و پریشان رہ جاتے ہیں کہ اگرچہ بعض معاملات میں بہ ظاہر ذمہ داران کا تقرر نظر آتا ہے لیکن اس کے تمام معاملات کے پیچھے سیّدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہی کی ذاتِ مبارکہ کارفرما تھی۔ بیسیوں شعبہ جات میں ذمے داران کے بہ جائے فقط آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہی کا حکم جاری ہوتا تھا۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارکہ ہمہ جہت شخصیت ہونے کے ساتھ ہمہ جہت حاکم بھی تھی۔ سلطنت کے داخلی، خارجی، معاشی، تعلیمی اور جنگی و دفاعی تمام معاملات پر بہ یک وقت آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نظر ہوتی تھی۔

جس مضبوط اور مستحکم انداز میں آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُمور سلطنت کو سرانجام دیا، اگر اسے آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کرامت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، اسی وجہ سے آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارکہ کی کمی کو تاقیامت محسوس کیا جاتا رہے گا۔ یقیناً کائنات کو جس ہستی کی ضرورت ہے وہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بھی دُنیا سے وعدۂ الٰہی کے مطابق وصال ظاہری فرما گئے اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے۔

مشیت الٰہی یہ ہے کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، یقیناً اب سیّدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھی دُنیا سے تشریف لے جانا تھا، ایک مجوسی غلام ’’ابولولو‘‘ نے آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو نمازِ فجر میں خنجر کے وار سے شدید زخمی کیا اور وہی زخم آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا سبب بنا، آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور دُنیا سے تشریف لے گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں