منڈی بہاؤالدین پولیس /4 اگست یوم شہدائے پولیس

منڈی بہاؤالدین پولیس /چار اگست یوم شہدائے پولیس

جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا

آج کا دن یوم شہداء پولیس کے نام سے منسوب ہے، شہدائے پولیس کی ان عظیم قربانیوں کی یاد میں ہر سال 04 اگست کا دن یوم شہداء پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے، آج کا یہ دن دراصل یوم تجدید عہد کا دن ہے کہ ہم ملک و ملت کے دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں خون کا آخری قطرہ تک بہانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے،آج کا دن قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا ہے جن کی قربانیوں کی بدولت آج وطن عزیز میں امن و سکون قائم ہے۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے،شہید کبھی نہیں مرتے بلکہ وہ ہم سے جدا ہوتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں،منڈی بہاؤالدین پولیس کے 09 پولیس افسران نے جام شہادت نوش کیا اور ابھی ان دنوں منڈی بہائوالدین پولیس کے اے ایس آئی جاوید اقبال کورونا وائرس کے باعث شہید ہوئے۔یہ وہ بہادر ہیں جنہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کر دیں۔ شہادت ایک اعزاز ہے جو اللہ پاک کے منتخب کئے ہوئے لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ہم دوران فرائض منصبی اپنی جانیں تو قربان کر سکتے ہیں لیکن اس ملک اور اس ملک کے شہریوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انسان کی سب سے قیمتی چیز انسان کی جان ہے، سلام ہے ان شہداء کو جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ہماری عزتیں، ہماری جانیں اور ہمارا مال محفوظ کر دیا،ہم سلام پیش کرتے ہیں تمام سیکورٹی اداروں کے شہداء کو اور ہمارے جو پبلک کے شہداء ہیں ان کو بھی سلام پیش کرتے ہیں، شہداء پولیس نے عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے اپنی جانیں قربان کر کے ہمارے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں، فرض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہم شہداء کی لازوال قربانیوں کوفراموش نہیں کر سکتے۔

خون دل دے کے نکھاریں گے روح برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

ضلع منڈی بہاؤالدین کی پولیس میں شہداء بھی ہیں غازی بھی ہیں اور شہادت ہم سب کی آرزو ہے۔یہی ہمارا مطلوب ہے اور یہی ہمارا مقصود ہے۔ یہی ہماری منزل ہے اور یہی ہمارا خواب ہے۔ ہم نے پولیس فورس میں شمولیت کے وقت یہ عہد کیا تھا کہ عوام کی عزت ، آبرو اور جان و مال کی حفاظت کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پنجاب پولیس کے شہداء پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جب جب وطن نے پکارا یہ افسران اور جوان اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے جرائم پیشہ افراد کے مقابلے پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوئے۔

ہمارے جذبات اور احساسات کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے زخموں سے چْور اپنے بھائی ، دوست اور ساتھی کو بچانے کی کوشش کی ہو یا شہادت کی صورت میں ان کا جنازہ اٹھایا ہو۔ ہم ان شہدا کے امین ہیں جو اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی اپنی جان ملک و ملت کے تحفظ کے لیے قربان کر چکے ہیں۔ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہریوں کی جان ومال کا تحفظ اور امن وامان کو برقرار رکھنے والے اہلکارمنڈی بہاؤالدین پولیس کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ جتنےبھی شہداء نے جامِ شہادت نوش کیا انہوں نے سینہ تان کر دشمن کامقابلہ کیا اور اگر شہریوں کی جان ومال کی خاطر جان بھی دینا پڑی تو زندگی کو ٹھوکر مار کر موت کو گلے لگا لیا لیکن گلشن پر آنچ نہ آنے دی۔

بلاشبہ جس طرح پاک فوج کے جوان سرحدوں کی حفاظت اور ملک دشمن عناصرسے جنگ کے دوران جام شہادت نوش کرکے تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں اسی طرح وطن عزیز کے اندر عوام کے جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے لئے قائم اداروں میں سر فہرست محکمہ پولیس کا ادارہ ہے جوکہ ملک بھر میں دہشت گردی،چوری، ڈکیتی اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف برسرپیکار ہے،

پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کررہے ہیں تو پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ملک کے اندر موجود،دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصر وف عمل ہیں۔ پولیس اہلکار ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سر شار اورجرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہر لمحہ برسر پیکار رہتے ہیں۔ بلاشبہ پاک فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز کی طرح پولیس فورس کی ناقابل فراموش قربانیوں نے ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک پر امن پاکستان یقینی بنا دیا ہے، یوم شہدائے پولیس پر وطن پر جان نثار کرنے والے شہدائے پولیس کو سلام۔

اپنے ملک و قوم کا دفاع اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہم پر فرض اور قرض ہے اور ہم اس فرض کو ادا کرتے رہیں گے۔پنجاب پولیس اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ مر جائیں گے مٹ جائیں گے لیکن اپنے شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے اور امن کے دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اجمل وحید گل
منڈی بہاؤالدین پولیس

اپنا تبصرہ بھیجیں