پاکستان نے دو ماہ قبل ہی کورونا پر 80 فیصد قابو پالیا تھا، امریکی جریدہ معترف

اسلام آباد / نیویارک: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے دو ماہ قبل تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس پر 80 فیصد تک قابو پاچکا تھا اور ملک کے اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد بہت حد تک کم ہوگئی تھی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے پاکستان کی کورونا پر قابو پانے کے حوالے سے اقدامات پر خصوصی رپورٹ شائع کی جس میں کورونا وبا پر قابو پانے سے متعلق پاکستان کی کوششوں کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی۔

وال اسٹریٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دو ماہ قبل تیزی سے پھیلتے کووڈ 19 پر  پر 0 فیصد تک قابو پایا تھا اور گزشتہ دو ماہ میں ملک کے اسپتالوں میں زیرِعلاج مریضوں کی تعداد خاطر خواہ کم ہوئی، کراچی میں وینٹی لیٹرز پر موجود مریض ایک ماہ میں نصف سے بھی کم ہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈبلیو ایچ او کی وارننگ کے برعکس لاک ڈاؤن کی مخالفت کی تھی اور انہوں نے لاک ڈاؤن کے اثرات کو سنگین اور خطرناک قرار دیا تھا، حکومت کی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان کے ہمسائے بھارت اور ایران بدستور کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہیں، امریکا جیسا وسائل سے مالا مال ملک بھی کورونا سے بدستور نبرد آزما ہے، امریکا میں کورونا وائرس کے 47 لاکھ مریض موجود ہیں جب کہ اموات ایک لاکھ 57 ہزار تک پہنچ گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ میں پاکستان کا فوری لاک ڈاؤن کرنا وائرس کے پھیلنے کو روکنے کا سبب بنا، پاکستانی عوام نے  احتیاطی تدابیر پر زیادہ سختی سے عمل کیا، پاکستان میں اسکول، ریستوران، شادی ہالز بدستور بند اور دور کا سفر محدود ہے،  خواتین اور معمر افراد کی محدود تعداد کا باہر جانا اور سخت احتیاطی تدابیر بہتری کا سبب ہیں، نوجوان اور مردوں کی اکثریت احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کاج کے لیے باہر نکلتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سوشل سرکل فیملی تک رہنا بھی وائرس کی کم پھیلاؤ کا باعث ہے، ملک میں دو لاکھ 78 ہزار کل کیسز کے ساتھ اب تک اموات 6 ہزار رہیں،  جون میں روزانہ 7 ہزار کیسز سے اب تعداد 903 تک پہنچ چکی ہے، ستمبر میں اسکول اور شادی ہالز بھی کھل جائیں گے، پاکستان میں کورونا کیسز میں نمایاں کمی کے باوجود مکمل کامیابی کا اعلان نہیں کیا گیا، مستقبل میں وائرس کے پھیلاؤ کا دارومدار احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد پر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں