قربانی کس پر واجب ہے؟

عید الاضحیٰ قریب آتے ہی لوگوں میں قربانی کے خود پر واجب ہونے یا نہ ہونے سے متعلق مختلف سوالات ذہن میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

عید الاضحیٰ کے دن مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہیں اور اس دن اللہ کی راہ میں جانور قربانی کرتے ہیں۔ قربانی کس پر واجب ہے یا نہیں، اس متعلق جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی نے تفصیلی فتویٰ جاری کیا ہے۔

فتوے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ ’’قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے۔ یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم نکلانے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے‘‘۔

بتایا گیا کہ ’’قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے۔ ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ (یعنی عید کے تیسرے روز) کے سورج غروب ہونے سے پہلے اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے‘‘۔

اسکے علاوہ ضرورتِ اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان اور آبرو سے متعلق ہو یعنی اس کے پورا نہ ہونے سے جان یا عزت وآبرو جانے کا اندیشہ ہو، مثلاً: کھانا، پینا، پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان، اہلِ صنعت وحرفت کے لیے ان کے پیشہ کے اوزار ضرورتِ اصلیہ میں داخل ہیں۔

ضرورت سے زائد سامان سے مراد یہ ہے کہ جو چیزیں انسان کے استعمال میں نہ ہوں اور اس کو ان کی حاجت بھی نہ ہوتی ہو تو وہ ضرورت سے زائد سامان میں شامل ہے، قربانی کے نصاب میں اس کی مالیت کو شامل کیا جائے گا۔

جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کا فتویٰ ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں