وچلی گل (تحریر محمد ندیم اختر)

وچلی گل – جلابی

نئی حکومت کو بنے دو سال مکمل ہونے کو تھے۔ سلطنتِ خداداد کے جوشیلے حکمران گذشتہ حکومت کی تعمیر کردہ موٹر ویز کو افتتاح کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔ایسی ہی ایک سڑک پر سرکارکی بس فراٹے بھرتی سکھر جارہی تھی ۔بس کی پچھلی سیٹ پر سوار بارہ سالہ لڑکا رضی پیچھے بھاگتے درختوں کو دیکھنے میں مگن تھا ۔اس کے ذہن میں ایک بات اٹکی اس کا چین سمیٹ رہی تھی کہ بس کا ڈرائیور تبدیل ہونے پر اس کی سپیڈ پر خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نا ملا ۔ انہی سوچوں میں گم رضی کے پیٹ میں گڑ بڑ شروع ہو گئی ۔۔   بس ابھی منزل سے کوسوں دور تھی۔۔۔ بڑی آنت پر دباؤ  پڑنا شروع ہو گیا جو مسلسل شدت کا باعث بن رہا تھا ۔۔پاس بیٹھا شخص اپنی نسوار کی پڑیا سے آخری گولی بنا کر منھ میں رکھ چکا پھر پڑیا کو ربڑ سمیت سیٹ کے پیچھے پھنسا دیا۔۔

اسی اثنا رضی کی ہمت جواب دے چکی تھی شرمیلا ہونے کی وجہ سے بس رکوا نا سکا اور شلوار میں ہی بس کے اندر ہگ دیا۔۔بس ٹانگیں سمیٹے رضی پریشان حال دونوں ٹانگیں جوڑ کر بیٹھا خوشبو کو قابو کرنے کا سوچ رہا تھا ہلکی سی مُشک کے ساتھ کامیاب ہو گیا ۔منزل قریب آتی گئی پریشانی بڑھتی گئی ۔۔ایک ترکیب نے اس کو سکون عطا کیا۔ سیٹ کی پچھلے جانب پھنسی نسوار کی پڑیا سے ربڑ نکال کر دونوں ٹانگوں کی رانوں پر چڑھا لیے ۔تاکہ گھر پہنچنے سے پہلے مال ٹانگیں خراب نا کر دے۔

بس منزل پر پہنچی تو رضی نظریں بچاتا بچاتا کسی نا کسی گھر واش روم تک پہنچ گیا اس نے ربڑ اتارے تو کچھ بھی برآمد نا ہواپھر کیا ہوا ۔رضی کے پیٹ میں گیس نے انہی مچائی ہوئی تھی جس کو وہ ہگنا سمجھ رہا تھا وہ صرف ایک گیس کا گولا شوں کرتا نکل کھڑا ہوا۔ جس نے پورے راستے  بھید بنا رکھا۔۔بظاہر پچھلی حکومت کی ڈگر پر چلتی حکومت  کی بھی صورت حال  سامنا ہے  چوشیلی تقریریں عوامی وعدے   اس ہوا کی طرح نظر آرہے ہیں جسے عوام عرصے سے قابو کیے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں یہ  سب ایک گیسی غبارہ جلابی ہے جو ناجانے کب قابو سے باہر ہو کر پُھس کر جائے

تحریر: محمد ندیم اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں