منڈ ی بہاوالدین انتہائی پسماندہ ضلع ہے، اس کی ترقی کے لئے آج تک کسی حکومت نے کوئی خاص توجہ نہیں دی. تعلیم اور صحت کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا. ملک صلاح الدین

منڈی بہاوالدین (بیوروچیف) ملک صلاح الدین ایڈوکیٹ سابق چیئرمین بلدیہ منڈی بہاوالدین اور حاجی عبد الحمید بلند ایگزیکٹو کارپوریٹ گجرات چیمبر آف کامرس و صدر شا تک منڈ ی بہاوالدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ منڈ ی بہاوالدین انتہائی پسماندہ ضلع ہے، اس کی ترقی کے لئے آج تک کسی حکوت نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے. تعلیم اور صحت کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ منڈی بہاوالدین آنے والی تمام سڑکیں تباہ حال ہیں. انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی رسول کا گزٹ ہو جکا ہے. وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے اس کے لئے 2 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا اور یہ رقم بجٹ میں مختص تھی، لیکن بجٹ 2019 ۔2020 میں اسے کم کر کے صرف 10 کروڈ روپے جاری کئے گئے، لیکن یہ رقم استعمال نہ کی جا سکی. یہ رقم تکنیکی بنیادوں پر خرچ نہ کرنے پر اس تکنیکی خرابی کو دور کرنے کے لئے وزارت انڈسٹری نے چانسلر کمیٹی تشکیل دے کر حتمی منظوری کے لئے وزیر اعلی پنجاب کو 6 ماہ قبل بھیج دی تھی. لیکن تا حال اس پر کسی قسم کی کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: رسول یونیورسٹی کا نوٹیفیکیشن ہوئے 15 ماہ گزر گئے ہیں لیکن اب تک اس کو فنکشنل نہیں کیا گیا

بغیر منظوری کے وائس چانسلر اس پر عمل کرنے سے قاصر ہیں. بجٹ 2020 ۔ 2021 میں بھی کوئی گرانٹ مختص نہیں کی گئی ہے جو کہ قابل افسوس ہے ۔حاجی امتیاز احمد ایم این اے چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی پاکستان پوسٹل سروسزز کی زاتی کوشش سے گجرات یونیورسٹی کیمپس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے. لیکن 2 سال گزرنے کے با وجو د اس میں پروفیسرز اور مستقل سٹاف کی تعینات نہیں ہو سکی ہے. تمام پروفیسرز عارضی طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں. گجرات یونیورسٹی کیمپس 3 سال کے لئے ڈسٹرکت جناح پبلک سکول منڈی بہاوالدین کی بلڈنگ میں قائم کیا گیا ہے.

ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی کے لئے 200 ایکڑ اراضی مہیا کی جائے اور اس پر جدید عمارت تعمیر کی جائے. ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منڈی بہاوالدین صرف 268 بستر پر مشتمل ہے، جب کہ ضلع کی آبادی 22 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، اس میں صرف تا حال صرف 10 شعبے قائم کئے گئے ہیں، مزید 40 شعبے قائم کئے جائیں تا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر ہر قسم کے علاج معالجہ کی سہولیات میسر ہو سکیں. ہسپتال کے لئے صرف 5 کروڑ روپے کی گرانٹ بجٹ میں مختص کی گئی ہے. جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے. ہسپتال میں تمام پروفیسرز، ڈاکٹرز مستقل سٹاف کی تعیناتی کی جائے. ایم آر آئی مشین ادویات اور دیگر ضروری سہولیات مہیا کی جائیں. منڈی بہاوالدین کہ تباہ حال سڑکوں کی تعمیر کی جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں