میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بشریٰ چودھری نے گزشتہ 9 سال سے ہسپتال کے سرکاری ٹرانسفارمر سے غیر قانونی لوڈ استعمال کرنے والی فیکٹری کا کنکشن کٹوا دیا

پھالیہ (نیوز ڈیسک )میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پھالیہ ڈاکٹر بشریٰ چودھری کا ایک اور کارنامہ گزشتہ 9 سال سے ہسپتال کے سرکاری ٹرانسفارمر سے غیر قانونی لوڈ استعمال کرنے والی فیکٹری کا کنکشن کٹوا دیا ۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال پھالیہ میں آئے روز وولٹیج کی کمی اور بجلی کی بار بار ٹرپنگ کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جب اس بات کا علم میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بشریٰ چوہدری کا ہوا تو انہوں نے کھوج لگانا شروع کردیا معلوم ہوا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی دیوار سے ملحقہ ایک پرائیویٹ فیکٹری نے گیپکو پھالیہ کے عملہ کی ملی بھگت سے ہسپتال کے سرکاری ٹرانسفارمر سے بجلی لگا رکھی تھی اس فیکٹری میں بھاری مشینری استعمال ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں وولٹیج کی کمی اور بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری تھا ۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بشریٰ چوہدری نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے گیپکو پھالیہ کے حکام کو سرکاری لکھا کہ فوری طور پر پرائیوٹ فیکٹری کے غیر قانونی کنکشن کو کاٹا جائے جس پر گیپکو پھالیہ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر غیر قانونی کنکشن کو کاٹ دیا ۔ مبینہ طور پر فیکٹری کے مالک نے 2011 میں ہسپتال کی سرکاری مہر سے ایک جعلی NOC بھی تیار کر رکھا تھا جس کے مطابق اس وقت کے ایم ایس نے ہسپتال سے پرائیویٹ فیکٹری کو بجلی کا کنکشن لگانے کی اجازت دی تاہم یہ پیش کیا جانے والا NOC جعلی ثابت ہوا ۔

عوامی سماجی حلقوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بشری چوہدری کے ایکشن لینے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔اور وزیراعظم پاکستان ۔وفاقی وزیر پانی و بجلی ۔چیئرمین واپڈا اور چیف انجینئر گیپکو گوجرانوالہ سے مطالبہ کیا ہے کے غیر قانونی فعل میں ملوث گیپکو پھالیہ کے افسران اور ملازمین کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جن کی سرپرستی میں گزشتہ 9 سال سے یہ غیر قانونی کام کیا جا رہا تھا

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بشریٰ چودھری نے گزشتہ 9 سال سے ہسپتال کے سرکاری ٹرانسفارمر سے غیر قانونی لوڈ استعمال کرنے والی فیکٹری کا کنکشن کٹوا دیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں