ملکوال کی ہاکی زوال پزیر کیوں (تحریر عابد حسین عابدی ملکوال)

ملکوال کی ہاکی زوال پزیر کیوں

جس شہر کے میدان آباد ہوتے ہیں اس شہر کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اب گنگا الٹا بہنے لگی ہے ہمارے ہسپتالوں میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں روزانہ کی بنیاد پر خلقت کا ایک سیلاب ہسپتالوں میں امنڈ آتا ہے اس کے برعکس کھیل کے میدان ویران ہوگئے پہلے تو میدان بچے ہی نہیں کھیل کے میدانوں پر بھی تجاوزات مافیا نے قبضہ کرلیا جو بچے وہ کھیل کے قابل نہیں اگر کوئی کھیل کے قابل ہے بھی تو اس میں کھلاڑی نہیں دیکھنے کو ملتے یہ مقامی انتظامیہ کی غفلت بے حسی ہے یا سیاسیوں کی عدم دلچسپی کھیل کے میدانوں پر توجہ نا دینے کیوجہ سے میدان آج ایک بنجر کھیت کی مانند پڑے نظر آرہے ہیں

بات کریں ملکوال کی تو ملکوال کی دھرتی نے ایسے ایسے ہیرے پیدا کئے ہیں جو نا صرف ملکوال اور منڈی بہاولدین بلکہ پاکستان کا نام روشن کرکے آئے ہیں تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان اس سرزمین کے سپوتوں نے ہر شعبہ میں نام پیدا کیا لیکن ملکوال کی جو اصل پہنچان تھی افسوس کے آج وہ زنگ آلود ہوچکی ہے اس کا تصور بھی ختم ہوا جارہا ہے۔۔۔ پاکستان کے جس شہر میں گئے جب اپنا تعارف مکوال سے کروایا تو آج بھی لوگ ملکوال کو “ہاکی “کے نام پر جانتے ہیں

ایک وقت تھا جب ملکوال میں ہاکی کا کھیل اس قدر شوق سے کھیلا اور دیکھا جاتا کہ جب ملکوال میں کوئی میچ ہوتا تو پہلے کسی سینما پر لگی فلم کی مشہوری کی طرح ہاکی کے میچ سے ایک دن قبل تانگہ پر شہر بھرمیں لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا جاتا کہ ملکوال کا میچ فلاں شہر سے ہے اور تانگہ پر شہر بھر میں اعلان کرنے کی زمہ داری دو ہاکی کے نامور کھلاڑی لالہ ہمدانی بلدیہ والا اور استاد اسلم گاندھی بخوبی نبھاتے تھے میچ کے شروع ہونے سے تین چار گھنٹے پہلے ہی لوگ اپنا اپنا کام سمیٹ لیتے کہ آج ملکوال کا میچ ہے پھر میچ کے وقت اپنے کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنے کےلئے تماشائیوں کا ایک سمندر موجود ہوتا ڈھول کی تھاپ پر ٹیمیں میدان میں آتی اور نعروں سے کھلاڑیوں کا میدان میں استقبال کیا جاتا

پھر اس شہر نے ہاکی کی تاریخ میں پاکستان کا کوئی ایسا شہر یا ڈیپارٹمنٹ نہیں جسے شکست نہیں دی اس گاؤں نما شہر نے لاہور ملتان کراچی گوجرہ جسے ہاکی کا گڑھ کہا جاتا ہے اور فیصل آباد جیسے شہروں کو انکی سرزمین پر جاکر شکست دی اسی سنہری دور میں ملکوال کی سرزمین نے پاک آرمی۔ پنجاب پولیس۔ واپڈا پاکستان ریلوے ۔سمیت دیگر اداروں کو وہ وہ کھلاڑی دئے جن کو میدان میں روکنا شیر میں کے منہ میں ہاتھ دینے والی بات تھی جن میں قابل ذکر نام لالہ ہمدانی استاد اسلم استاد عمران گولا عبد الحمید گوگا ملک شکیل اقرار شاہ سلیم شاہ اور بہت سے نام ہیں جنھوں نے ہاکی میں ملکوال کی ایک الگ پہنچان بنائی اور ملکوال کے میدانوں کو آباد رکھا اور ہم جیسے جونیئر تیار کئے لیکن اس وقت انتظامیہ کا کچھ نا کچھ تعاون شامل ہوتا تھا

ہاکی پر خاص توجہ دی جاتی تھی فنڈنگ ہوتی تھی سیاسی بھی کچھ نا کچھ دلچسپی رکھتے تھے جس سے کھلاڑیوں پر بوجھ کم ہوتا تھا اور حوصلہ افزائی کیوجہ سے کھلاڑی اچھا کھیل پیش کرتے اور دیکھنے والوں کو بھی کھیلنے کی خواہش ہوتی اور نواجوان کھیل کی جانب راغب ہوتے تھے لیکن آج ملکوال کی پہنچان اور پاکستان کا قومی کھیل ویسے تو ہاکی نیشنل سطح پر ہی زوال پزیر ہے لیکن ملکوال میں ہاکی کا جنازہ نکل چکا ہے اب اگر کچھ ہاکی زندہ ہے تو وہ اپنی مدد آپ کے تحت ہے کھلاڑی محدود وسائل کے باوجود کسی حد تک ملکوال میں اس کھیل کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں جن میں اہم نام ملک جمیل کا ہے جو ملکوال کی ہاکی کو زبردستی کندھا دیکر کھڑا کئے ہوئے ہے ورنہ اب تک زمین بوس ہوچکی ہوتی اور ایسے افراد کا ذکر نا کرنا سراسر زیادتی ہوتی ۔۔

ملکوال میں کھیلنے کے لئےھراونڈ کی کمی پھر مقامی انتظامیہ کی عدم توجہ اور عدم دلچسپی ملکوال کی ہاکی پر زوال کی اہم وجہ بنی میدان آباد کرنے کی کوشش نا کی گئی میدان پر مافیا نے قبضہ جمالیا دہشتگرد کے خطرے کے پیش نظر کھیل پر پابندی عائد کردی گئی کھلاڑیوں پر فنڈنگ روک دی گی سپورٹس فیسٹیول کرپشن کی نظر ہوگیا سستے کھیلوں کو سپورٹس فیسٹیول کا حصہ بنا کر بل ہضم ہونے شروع ہوگئے جسکی وجہ اپنی مدد آپ کے تحت کھیلنے والے کھلاڑیوں کے حوصلے پست ہونا شروع گئے اور بلآخر یہ عالم ہے کہ ملکوال میں ہاکی زوال پزیر ہوگئی

نئی نسل میں انٹرنیٹ موبائل اور نشہ جیسی عادات جنم لینے لگیں ہسپتال آباد ہونا شروع ہوگئے جیلیں بھرنے لگی جرائم میں اضافہ ہوگیا لیکن ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا وہی سنہری دور واپس آسکتا ہے اگر مقامی انتظامیہ ہاکی کے فروغ کے لئے اہم اور ٹھوس اقدام کرے کھیل کے میدان کو بہتر بنایاجائے ہاکی کو سپورٹس فیسٹیول کا حصہ بنا کر اس کھیل کو اہمیت دی جائے اور کھلاڑیوں کو ضرورت کا سامان فراہم کیا جائے کیونکہ مہنگائی بیروزگاری کے اس دور میں لوگ کھانے سے تنگ ہیں کھیلوں کا سامان کہاں سے لیں سیاستدان اس میں اپنا کردار ادا کریں اور ہاکی کے لئے فنڈز منظورکروائیں تو وہی کھیل وہی میدان وہی کھلاڑی سب کچھ واپس لوٹ سکتا ہے اور ایک بار پھر ملکوال کی ہاکی کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس لوٹایاجا سکتا ہے اور آج بھی ملکوال کی دھرتی پاکستان کو اچھے کھلاڑی دے سکتی ہے لیکن توجہ کی ضرورت ہے اور کسی مسیحا کا انتظار ہے ۔
وسلام

تحریر عابد حسین عابدی ملکوال

اپنا تبصرہ بھیجیں