آن لائن کلاسز کی پیشکش، ہزاروں پاکستانی طلبا اعلیٰ تعلیم کیلیے بیرون ملک نہیں جائینگے

کراچی: کوویڈ 19 نے کراچی سمیت ملک بھر کے کیمبرج اورملکی تعلیمی بورڈز سے “اے لیول اور انٹرمیڈیٹ” کا امتحانات دے کر غیر ملکی جامعات سے گریجویشن کا ارادہ رکھنے والے ہزاروں طلبہ وطالبات کو کو نئی مشکل اور چیلنج میں ڈال دیا ہے.

ابھی یہ طلبا بغیر امتحان کے براہ راست گریڈنگ کے ایک نئے تجربے سے گزر ہی رہے تھے کہ کورونا کے سبب امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جرمنی سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں قائم جامعات میں سے بیشتر نے بھی داخلوں کی صورت میں فوری طور پر انھیں اپنے اپنے ممالک میں بلانے کے بجائے آن لائن سیمسٹر شروع کرنے کا عندیہ دیدیا، متعلقہ ممالک میں اعلی تعلیم کے حصول کے لیے ویزہ پالیسی کا اعلان بھی تاحال نہیں ہوا ہے۔

بیشتر جامعات کی جانب سے داخلہ لینے والے طلبا کے لیے آن لائن کلاسز کی پیشکش کے باوجود مجموعی فیسوں میں کسی قسم کا رد و بدل یا کمی بیشی بھی نہیں کی جارہی ہے بلکہ یہ اکثر جامعات ان طلبا سے ہاسٹل، انشورنس اور دیگر مدوں میں بھی فیسیں چارج کررہی ہیں جبکہ داخلوں کی صورت میں طلبہ گھر بیٹھے آن لائن سیشنز لیں گے آن تمام مشکلات اور روایتیفیسوں کی ادائیگی کے باوجود بیرون ممالک جائے بغیر ہی آن لائن کلاسز کی پیشکش کے سبب بیشتر پاکستانی طلبہ رواں سال اپنے ایڈمیشن defer کرنے اور آئندہ برس سے ان جامعات کو جوائن کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں.

طلبہ کے بیرون ملک کی یونیورسٹیز میں داخلہ رجحان میں شدید کمی کی تصدیق “ایکسپریس”کو کراچی میں کام کرنے والے معروف ایجوکیشن کونسلر اور “ایچ ایس کنسلٹنٹ کے ڈائریکٹر حمیل خان Humail khan نے بھی کردی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ COVID 19 کے بعد پاکستان میں کیے گئے لاک ڈاؤن میں آن کے ادارے کے ذریعے اس تین ماہ کے عرصے میں محض 5 طالب علم ایسے ہیں جو بیرون ملک کی جامعات میں داخلے حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں رہتے ہوئے آن لائن ایجوکیشن لینے لیے تیار ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ادھر والدین کے لیے بڑا مسئلہ ہے ایک چیلنج ہے کہ ان کے حالات وہ نہیں رہے جو تین ماہ پہلے تھے طلبہ اور والدین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر پہلا سیمسٹر آن لائن لے بھی لیں تو چار ماہ بعد طالبعلم اسی ملک میں جاکر پڑھ رہا ہوگا طلبہ سوال کررہے ہیں کہ اس آن لائن ایجوکیشن کی مارکیٹ میں کیا قدر ہوگی اور کیا چار ماہ بعد بھی ان کا ویزہ لگ جائے گا دوسری جانب 70 سے 80 فیصد یوکے کی جامعات نے داخلہ لینے والے طلبہ پر واضح کردیا ہے کہ وہ آن لائن جارہے ہیں ایچ ایس کنسلٹنٹ کے ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 15 مارچ سے ویزہ پراسس بھی روکے ہوئے ہیں کیونکہ بائیو میٹرک بھی نہیں ہورہا یو ایس کی ایمبیسی بند ہے۔

Lyceumکالج کراچی کی طالبہ فرحین زہرا کا کہنا تھا کہ انھوں نے انگلینڈ کی جامعہ میں سوشل سائنسز میں انڈر گریجویٹ پروگرام میں داخلے کے لیے درخواست دے رکھی ہے یونیورسٹی نیبوندیہ دیا ہے کہ کلاسز شاید آن لائن ہی ہوں فرحان زہرا کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ آن لائن کلاسز میں گی یا نہیں،کراچی کے ایک اور پرائیویٹ کالج کے طالب علم شاہ میر کا کہنا تھا کہ انھوں نے لندن کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے مضمون میں داخلہ لیا ہے شاہ میر کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ویزے کا ہے ،Cedar کالج کراچی کے طالب علم عیسی سید کا کہنا تھا کہ انھوں نے انجینیئرنگ کے ضابطے میں میں کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں داخلہ لیا ہے یونیورسٹی نے آفیشلی کہہ دیا ہے کہ کلاسز آن لائن ہی ہونگی تاہم میرے نزدیک جاکر پڑھنا ہی زیادہ بہتر ہے مزید ایک طالب علم عمار رضا کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کی یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لے رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں