تین پاکستانی خواتین نے ’فیئر اینڈ لولی‘ کانام تبدیل کروادیا

یونی لیور پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے فلیگ شپ بیوٹی برانڈ فیئر اور لولی سے لفظ ’فیئر‘ کو ہٹاکر پراڈکٹ کی دوبارہ تشہیر کریں گے۔

یونی لیور پاکستان کے سی ای او عامر پراچہ نے کہا ہے کہ ‘ہم نے برانڈ کمیونکیشن کو فیئر کے بجائے چمک کی طرف منتقل کیا ہے اور برانڈ سے ‘فیئر’ کا لفظ نکال رہے ہیں۔ نئے نام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

کمپنی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان کی باقی اسکن کیئر مصنوعات مثبت خوبصورتی کے نئے وژن کی بھی عکاسی کرے گی۔ یونی لیور واحد ایسی کمپنی نہیں ہے جس نے معاشرے میں نام کی ساکھ خراب ہونے کے باعث پرانی حکمت عملی سے دوری اختیار کی ہے۔

اس سے قبل جانسن اینڈ جانسن نے 19 جون کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنی دو مصنوعات کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں ایشیاء اور مشرق وسطی میں فروخت ہونے والی نیوٹرجینا فائن فیئرنس اور بھارت میں معروف کلین اینڈ کلئیر فیئرنس شامل ہیں۔

کمپنی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘پچھلے چند ہفتوں کے دوران ہونے والی بحث سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ہماری بعض مصنوعات کے نام یا دعووؤں سے یہ پیغام جاتا ہے کہ شاید لوگوں کی جلد کی اپنی اصل رنگت اچھی نہیں ہے۔

یونی لیور کے اس اعلان کو ملک بھر کے لاکھوں افراد نے سراہا ہے۔ لیکن اصل میں یہ ان تین خواتین کے لئے بھی فتح ثابت ہوئی ہے جنہوں نے جلد کی رنگت پر عالمی بحث شروع ہونے کے ساتھ ہی اس کے خلاف جدوجہد کو اپنا مقصد بنالیا۔ خاص طور پر امریکا میں ’بلیک لائیوز میٹر‘ مہم میں حالیہ تیزی کے بعد ہیرا ہاشمی، انم چندانی اور ماروی احمد نے 9 جون کو فیئر اور لولی پر پابندی عائد کرنے کے لئے ایک آن لائن پٹیشن کا آغاز کیا۔

یہ خواتین 46 سالہ جارج فلائیڈ کی موت کے بعد امریکا اور پوری دنیا میں شروع ہونے والی رنگ برداری کی تحریک سے متاثر ہوئیں۔ ماروی احمد نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ‘ہمارا مقصد کئی دہائیوں سے نسل پرستی کا شکار لوگوں کے لئے حلیف بننا ہے۔’ ہم، ایشین اور جنوبی ایشین کی حیثیت سے خود نسل پرستی کا شکار ہیں مگر اس کے باوجود سیاہ فام لوگوں کی حمایت نہیں کرتے۔’

ان خواتین نے آن لائن پٹیشن میں یونی لیور انٹرنیشنل کے سی ای او ایلن جوپ کو مخاطب کرکے مطالبہ کیا کہ کریم کی تیاری اور فروخت کو روکنا چاہئے کیونکہ اس سے لوگوں میں کلر ازم کو فروغ ملتا ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ‘اس پروڈکٹ نے نسل پرستی سے مستقل طور پر فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے صارفین میں نسل پرستانہ اور سیاہ فام لوگوں کے خلاف جذبات کو فروغ دیا ہے۔

پٹیشنر ہیرا ہاشمی نے 6 سال یونی لیور میں ملازمت کی اور ان کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے اندر تنوع اور شمولیت پر ہمیشہ فخر کرتا ہے۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ہیرا نے کہا کہ ‘ جب فیئرنس کریم کی بات کی جاتی ہے تو فیئر اینڈ لولی ایک مارکیٹ لیڈر ہے۔

انہوں نے کہا ، ‘حال ہی میں ، اس برانڈ نے سماجی انصاف اور نسلی مساوات کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور کارکنوں کو 10 لاکھ امریکی ڈالر (فیئر اینڈ لولی کی آمدنی کا 0.2٪) سے زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔ مگر کمپنی کو کریم بیچتے وقت ایسے نسل پرستانہ دعوے کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔

تیسری درخواست گزار انعم چندانی نے کہا کہ یہ برانڈز کریم کے اشتہار پر لاکھوں خرچ کر رہے ہیں اور اس کی تشہیر کے لئے پوری دنیا کی مشہور شخصیات کو استعمال کررہے ہیں۔ اگر ایک گوری رنگ رکھنے والا اداکار دن میں تین بار آپ کے ٹیلی ویژن اسکرین پر آکر یہ بات دہرا رہا ہے کہ یہ گورا رنگ ہی خوبصورت ہے تو آپ لوگوں سے کیا امید کریں گے۔ ماروی احمد نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم شدت کے ساتھ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ 2020 میں یہ منافقت نہیں چل سکتی۔

فیئر اینڈ لولی کریم یونی لیور انڈیا کا پروڈکٹ ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ جلد کی رنگت کو گورا کردیتا ہے۔ اسے 1975 میں مارکیٹ میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس برانڈ کے مشن اسٹیٹمنٹ میں کہا گیا ہے کہ: ‘اپنی پوری تاریخ میں فیئر اینڈ لولی نے خواتین کو ان کے خوابوں کا تعاقب کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اگر چہ سماجی رکاوٹوں کے باعث ان کو مشکلات کا سامنا تھا۔

فیئر اینڈ لولی پر پابندی کیلئے دائر آن لائن پٹیشن پر 79 سے زائد ممالک کے 12000 سے زیادہ لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انھیں توقع نہیں تھی کہ وہ صرف چند ہی دنوں میں 10000 کا سنگ میل عبور کریں گے۔ یہ آن لائن درخواست change.org  پر دائر ہے اور یہاں کلک کرکے دستخط کیے جاسکتے ہیں۔

مصنفہ فاطمہ بھٹو ، ایوارڈ یافتہ اداکارہ پریانکا بوس اور گلوکارہ میشا شفیع جیسے بااثر افراد بھی اس پٹیشن کی حمایت میں سامنے آئے ہیں جبکہ ماورا حسین، سجل علی اور حال ہی میں زارا نور عباس جیسے اداکاروں نے فیئر اینڈ لولی کو فروغ دیا ہے۔

پٹیشن کے ایک حامی نے انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مجھے اپنی رنگت کی بڑی فکر ہورہی تھی۔ میں گھر سے نکلتے ہوئے بڑی ہیٹ پہنتا اور خود کو دھوپ سے بچا کر چلتا تھا کہ رنگ خراب نہ ہوجائے۔ جنوبی ایشیا میں لوگ فیئر کلر کو اضافی خوبی تصور کرتے ہیں اور جلد کی رنگت کی وجہ سے لوگوں کو کمتر تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں آج بھی عورت کی شادی سے لیکر نوکری اور سماجی رابطوں تک میں خواتین کی جلد کی رنگت کو مدنظر رکھا جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں