دو دریاوں کے درمیان موجود منڈی بہاوالدین کی زرخیز مٹی کو کس کی نظر لگ گئی ؟ (تحریر: ندیم اکرم ورک)

دو دریاوں کے درمیان موجود منڈی بہاوالدین کی زرخیز مٹی کو کس کی نظر لگ گئی ۔۔۔؟

منڈی بہاوالدین میں آئے روز قتل کی لزرہ خیز واردات سامنے آ رہی ہیں. ہر واردات اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ رہی ہے .جب سے منڈی بہاوالدین میں بندوق کلچر رائج ہوا ہے تب سے منڈی بہاوالدین کی فضا مسلسل سوگوار میں ہے ہر باشعور آدمی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے .

سوشل میڈیا صارفین بھی سخت غم و غصے کا شکار ہیں چند سوشل میڈیا صارفین نے اس قتل و غارت کا ذمہ دار انتظامیہ کی نااہلی اور ڈسڑکٹ پولیس آفیسر ناصر سیال کو ٹہرایا ہے تاہم ڈسڑکٹ پولیس آفیسر نے اپنے ایک وائس مسیج میں ان کی تردید کرتے ہوئے سارا ملبہ والدین ،خاندانی دشمنی اور عدم برداشت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ کر لیا ہے ان کے مطابق انہوں نے منڈی بہاوالدین میں لاء اینڈ آرڈر قائم کیاہے ان کی بدولت ہی بہت سے اندھے قتلوں کا بھی سراغ لگایا گیاہے .

ڈسڑکٹ پولیس آفیسرز کی حمایت میں مقامی صحافی برادری پیش پیش ہے ان کے مطابق جرائم پر کنڑول والدین کی ناقص تربیت کی وجہ سے نہیں ہو رہا یوں صحافی حضرات اور پولیس نے والدین کو مورد الزام ٹھہریا ہے . سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ایسے سرکشوں جن کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے ان کو کنڑول کرنے کے لیے قانون نہیں بنایا گیا ۔۔۔۔؟ ان سرکشوں کو لگام دینے کے لیے محکمہ پولیس نہیں بنایا گیا ۔۔۔۔؟

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاوالدین پولیس کی کارکردگی اور پولیس کی کم نفری و وسائل

اب آتے ہیں اس گھمبیر صورت حال کے دوسرے پہلو میں کہا جا رہا ہے کہ قتل و غارت کالج گروپس اور فیس بک گروپ پر اسلحہ لہرانے کی وجہ سے ہورہی ہے. پھر سے سوال آ گیا ان کو کنڑول کس نے کرنا ہے ۔۔۔؟ آخر اتنا اسلحہ منڈی بہاوالدین میں آ کہاں سے رہا ہے ۔۔۔؟

اس حوالے سے منڈی بہاوالدین ڈی او پی آفیس آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے انچارج سب انسپکٹر قسور عثمان نے بھی پوسٹ کی ہے کہ فیس بک پر اسلحہ شو کرنے والوں کے خلاف ایکشن ہوگا مگر عوام سکرین شارٹ اور تصاویر میرے واٹس اپ نمبر پر سینڈ کرئے. کون نہیں جانتا کہ محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کی بہتات ہے.

اب عوام کو کیا ضرورت ہے کہ امن کی خاطر نشاندہی کرئے بدلے میں مفت کی دشمنی مول لے اور اپنی جان و مال سے ہاتھ دھو بیھٹے. اس کام کے لیے محکمہ پولیس سائبر کرائم سے رجوع کیوں نہیں کرتا ۔۔۔؟ اپنی انٹیلجنس کی خدمات کیوں نہیں لے رہا ۔۔۔؟ خود آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ بھی تو ہے خود کیوں نہیں تلاش کرتے ۔۔۔؟ اگر سارے کام عوام نے کرنے ہیں تو آپ نے کیا کرنا ہے ۔۔۔؟

یہ بھی پڑھیں: آج تک ضلع میں کل 46 قتل ہوئے.صرف 2 قتل ڈاکوؤں نے کئے جن میں سے ایک کے ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، ناصر سیال

اب آتے ہیں معاشرتی کردار کی طرف تو ہم سب کو منڈی بہاوالدین کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا. وکلاء ،پروفیسرز اور علماء کو نوجونواں کو اس نحوست سے نکالنے کے لیے نوجوان نسل کو امن کا درس دینا ہوگا . اب منڈی بہاوالدین میں ایک ایسی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا جو اس نسل کو شعور دے . ہمارے ہاں چھوٹے بچوں کو بھی عید پر پلاسٹک کا اسلحہ لے کر دیا جاتا ہے ایسے میں امن و آشتی کو فروغ دینے کے لیے ذہنی سازی کرنا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں .

تو آئیے منڈی بہاوالدین کو امن کا گوارہ بنانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں !!!

تحریر ۔۔ ندیم اکرم ورک

اپنا تبصرہ بھیجیں