تنخواہوں میں اضافہ،نئی بھرتیاں نہ کی جائیں، آئی ایم ایف

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بجٹ سے قبل پاکستان سے کئی بڑے مطالبات کردیئے، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمين کی تنخواہوں ميں اضافہ کيا جائے اور نہ ہی نئی بھرتياں، گاڑیاں نہ خریدنے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے پر بھی زور ديا گیا ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کا تجویز کردہ ٹیکس ہدف غیر حقیقی قرار دیدیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق زیادہ ہدف مقرر کرنے سے منی بجٹ آسکتا ہے، واضح کيا کہ دفاع اور ترقیاتی اخراجات میں کمی ممکن نہیں، نئے مالی سال میں آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کردیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں جاری ہیں، عالمی مالیاتی ادارے نے غیر ضروری اخراجات کم اور تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا مطالبہ کردیا، یہ بھی کہا کہ نئی ملازمتیں دی جائیں اور نہ ہی گاڑیاں خریدی جائیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف کا تجویز کردہ 5 ہزار 103 ارب روپے کا ٹیکس ہدف غیر حقیقی قرار دے دیا، نئے بجٹ میں ٹیکس ہدف 4 ہزار 600 سے 4 ہزار 700 ارب روپے مقرر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

حکام وزارت خزانہ کے مطابق زیادہ ہدف مقرر کرنے کی صورت میں دسمبر میں منی بجٹ آسکتا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفاع، ترقیاتی اخراجات اور پے اینڈ پینشن بل میں کمی ممکن نہیں، مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں کم از کم اضافہ کرنا پڑے گا۔

وزارت خزانہ نے نئے مالی سال میں آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کردیا۔ کہا کہ کرونا کے معیشت پر منفی اثرات ایک سال تک جاری رہ سکتے ہیں، مالی خسارے، قرضوں اور سود کی ادائیگی سے جان چھڑانا فی الحال ناممکن ہے۔ حکام کے مطابق کرونا ختم ہوتے ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں