کیا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا تبادلہ ہی ضروری ہے ؟؟؟؟ (تحریر: مرید کاظم جعفری)

کیا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا تبادلہ ہی ضروری ہے ؟؟؟؟

گذشتہ دو ماہ سے منڈی بہاوالدین میں ہونے والی درجنوں قتل کی لرزہ خیز واردتوں سے عوام مضطرب و پریشان ہیں اور سوشل میڈیاپہ مذہبی،سیاسی،سماجی،تجارتی،صحافتی شخصیات اپنے عقل و دانش کے مطابق اظہار رائے اور طرح طرح سے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں ہمارے ہاں ایسے حالات میں یا ڈی پی او صاحبان خود تبادلہ کروا کے کسی دوسرے ضلع میں چلے جاتے ہیں یا حکومت مخالف سیاسی جماعتوں اور عوامی احتجاج کے سامنے پنجاب حکومت حالات کو بھانپتے ہوئے پسپائی پر ڈی پی او کا تبادلہ کر دیتی ھے.

یہ بھی پڑھیں: آج تک ضلع میں کل 46 قتل ہوئے.صرف 2 قتل ڈاکوؤں نے کئے جن میں سے ایک کے ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، ناصر سیال

ضلع منڈی بہاوالدین کی آبادی بیس بائیس لاکھ کے لگ بھگ ھے ان تمام افراد کے جان و مال کی حفاظت پر ہزار بارہ سو کے قریب پولیس نفری ضلع میں تعینات ھے اور اس نفری میں سے پانچ سو کے قریب پولیس اہلکار پروٹوکول، کلیریکل سٹاف،اور مختلف تھانوں، دفاتر میں لکھت پڑھت پر مامور ہیں باقی تقریبا پانچ سو کے قریب پولیس ملازمین بیس سے بائیس لاکھ عوام میں ہونی والی چوری، ڈکیتی، راہزنی،اغوا،قتل،قبضہ اراضی،عدالتی پیشی، میں مصروف عمل ہیں.

تھانہ پھالیہ میں 51 دیہات ہیں جبکہ 80 پولیس ملازمین،تھانہ قادر آباد میں 84 دیہات اور 30 کے قریب پولیس ملازمین تعینات ہیں،تھانہ پاہڑیانوالی میں 51 دیہات اور 57 پولیس ملازمین،تھانہ بھاگٹ میں 32 دیہات اور 37 پولیس ملازمین تعینات ہیں اور اسی طرح ضلع بھر کے تمام تھانوں میں نفری کے فقدان کا یہی عالم ھے لاکھوں نفوس پر سینکڑوں اہلکار مامور ہیں جس کی وجہ سے لاقانونیت،چوری، ڈکیتی،قتل و غارت گری پر قابو پانا محال و نا ممکن ھے دوسری جانب پنجاب بھر میں ضلع منڈی بہاوالدین بار کا علاقہ غیرت مند، جری،دلیر،یورپین نیشلیٹی ہولڈرز، خوشحال خاندانوں ،لیٹیسٹ ویگو ڈالے اور اسلحہ بردار جوانوں کا مسکن ھے.

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاوالدین پولیس کی کارکردگی اور پولیس کی کم نفری و وسائل، تحریر یونس شاہد

مخالف کو ثواب سمجھ کے جان سے مار دینے اور غیرت کے نام پہ دن دیہاڑے اندھا دھند فائرنگ کا رواج عام ھے دوسری جانب ضلع کی سیاسی شخصیات وفاق اور پنجاب کے ہر دور اقتدار میں بااثر ہونے کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ پر غالب رھے ہیں اور من پسند فیصلوں اور من مانیوں کے عادی بن چکے ہیں جس کی وجہ سے ادارے قانون کی بالا دستی سے عاجز سیاسی حکم ناموں کے آگے سر تسلیم خم کئے عاجزانہ ہاتھ باندھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں حکم کی تائید میں دیری پر ایک ایم این اے تبادلہ کروا دیتا ھے دوسرا ایم پی اے تفتیشی کو واپس اسی اسٹیشن پہ لگوانے پہ ڈی پی او سے بضد نظر آتا ھے.

مذکورہ افسر یا ڈی پی او ڈی سی کی تعیناتی یا تبادلہ انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ من پسند فیصلوں کی تکمیل اور سیاسی مخالفین کی تزہیک کا ثمر ہوتا ھے اور جس معاشرے میں انصاف کا فقدان ہو اور انتقامی سیاست کو فروغ دیا جائے اس معاشرے میں امن گاہیں نہیں چوک چوراہوں میں مقتل گاہوں کے قیام اور گولیوں کی ترتراہٹ ہی صبح شام سنائی دیتی ھے.

یہ بھی پڑھیں: ڈی پی او منڈی بہاؤالدین محمد ناصر سیال کا منڈی بہاؤالدین کی عوام کے لئے خصوصی آڈیو پیغام

جب تک پولیس سیاست دانوں کی تعیناتی اور تبادلوں کی مرہون منت نہ ہو گی اس بوسیدہ ظالمانہ نظام میں افراد تھانوں کچہریوں سے دلبرداشتہ ہو کر ہر گلی محلوں شہروں دیہاتوں چوک چوراہوں میں اسلحہ آتشیں سے لیس بدلہ کی آگ میں جلے اپنی عدالتیں اسی طرح لگاتے رہیں گے اور ضلع منڈی بہاوالدین میں چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں گی اس کا حل ڈی پی او مہر ناصر خان سیال کا تبادلہ نہیں سالوں سے چلے آنے والے قانون میں اصطلاحات اور نفری میں اضافہ کی ضرورت ہے

تحریر مرید کاظم جعفری چیئرمین مجلس عاملہ پھالیہ پریس کلب (رجسٹرڈ ) پھالیہ ۔۔۔۔

کیا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا تبادلہ ہی ضروری ہے ؟؟؟؟ (تحریر: مرید کاظم جعفری)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں