استعمال شدہ ماسک اور دستانوں کے باعث کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ

کراچی: شہر میں آپ جہاں بھی چلے جائیں، جگہ جگہ کچرے اور گندگی کے ڈھیر نظر آنا کوئی انہونی بات نہیں اور ان میں پلاسٹک کے بیگ سب سے زیادہ نظر آتے ہیں جو گٹروں اور نالیوں کو بند کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں جس سے مزید گندگی اور تعفن پھیلتا ہے۔

ایسے وقت میں جب ماحولیاتی ماہرین پہلے ہی آلودگی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ایسے میں کورونا وائرس کی وبا نے اس مسئلے کو مزید بڑھادیا ہے اور اس کی وجہ عوام کی جانب سے دستانوں اور ماسک کا بے تحاشا استعمال ہے، پلاسٹک بیگ کی طرح یہ ماسک اور دستانے بھی ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں مگر ان میں ایک بات کا زیادہ خدشہ پایا جاتا ہے یعنی ان ماسک اور دستانوں کے ذریعے کورونا کے پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں اگر انھیں صحیح طریقے سے ضائع یا ٹھکانے نہ لگایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ماسک پہننا لازم قرار

22 سالہ فیروز خان جو کراچی کے گلی کوچوں سے کچرا اٹھانے کا کام کرتا ہے اس نے ایکسپریس سے بات چیت میں بتایا کہ جب سے کورونا وبا پھیلی ہے اس کے بعد سے شہر میں عوام کی جانب سے کچرا پھیکنے میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر سرجیکل ماسک بڑی تعداد میں اب کچرے کے ڈھیر میں پڑے نظر آتے ہیں، فیروز خان کی طرح کے اور دیگر افراد جو کراچی کے گلیوں سے کچرہ وغیرہ اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔

انھیں اس وبا کے لگنے کا بھی خطرہ ہے انفیکشن کنٹرول سوسائٹی پاکستان کے صدر ڈاکٹر رفیق خانانی نے ایکسپریس کو بتایا کہ کوئی بھی وائرس کسی بھی سطح پر کچھ دنوں تک زندہ رہتا ہے اور کورونا بھی ایسا ہی ایک وائرس ہے، کورونا وائرس ماسک پر بھی رہ سکتا ہے کیونکہ ماسک براہ راست منہ کے ساتھ لگا ہوتا ہے لہذا اگر اسے مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ عوام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، سولڈ ویسٹ منیجمنٹ سندھ بورڈ کے سابق ایم ڈی آصف اکرم کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال کے لیے کبھی بھی تیاری نہیں کی گئی کہ جس میں کچرا اٹھانے کا عمل اس وبا کے پھیلنے کا سبب بن

اپنا تبصرہ بھیجیں