منڈی بہاوالدین پولیس کی کارکردگی اور پولیس کی کم نفری و وسائل، تحریر یونس شاہد

کل سے جو افراد ریاستی اداروں خصوصا” پولیس کی ناْقص کارکردگی پر بڑھ چڑھ کر پوسٹیں وائرل کر رہے ہیں ان سے بڑے ادب سے گذارش ہے کہ وہ یہ مہم چلائیں کہ پولیس کی نفری تھانہ سطح پر پوری کی جائے ۔انتہائی کم نفری اور کم وسائل کے باوجود پولیس شہریوں کے جان ومال کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے 24گھنٹے ڈیوٹی دے رہی ہے

اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کم نفری کا ہے پولیس اہلکار اور آفیسرز 24 گھنٹے ڈیوٹی دے دے کر نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں .اس کے علاوہ سیاسی مداخلت نے اس ادارے کی کارکرگی کوسوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے ایم این ایز اور ایم پی ایز صبح سویرے ہی درجنوں چٹیں لے کر DPO’s کے دفاتر میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں ہر جائز ناجائز کام کے لئے پولیس افسران پر دبائو ڈالتے نظر آتے ہیں جو آفیسرز ان کی نہ مانے اس کا بوریا بسر گول کروا دیتے ہیں

عمران خان بڑے دعوے سے کہتے تھے کہہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو محکمہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرینگے مگر تاحال سیاسی مداخلت کا خاتمہ ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ محکمہ پولیس کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لئی ہم سب ملکر کردار ادا کریں اس کے بعد اگر پولیس کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی تو ہمیں تنقید کا بھرپور حق حاصل ہو گا .

ہم جن ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کیا وہاں پر یہ مسائل ہیں یا وہاں کے محکمے آزاد ہیں یقینا” آزاد ہیں وہاں پر ایک عام شہری اور وزیراعظم سے ادارے ایک جیسا برتاو کرتے ہیں. آئیے ملکی اداروں کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں.

یونس شاہد چیف ایڈیٹر روزنامہ بازپرس

2 تبصرے “منڈی بہاوالدین پولیس کی کارکردگی اور پولیس کی کم نفری و وسائل، تحریر یونس شاہد

اپنا تبصرہ بھیجیں