بھارت: معصوم بچے کی مردہ ماں کو اٹھانے کی کوشش، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت کے صوبے بہار کے شہر مظفر پور میں ایک کمسن بچہ ریلوے پلیٹ فارم پر اپنی مردہ ماں کو اٹھانے کی کوشش کررہا ہے گویا کہہ رہا ہو کہ اٹھو ماں مجھے بھوک لگی ہے۔

بھارت میں جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد پہلے سے ہی بھوک اور افلاس کا شکار ہے، وہاں کرونا وائرس کی وباء کے باعث لگائے جانیوالے لاک ڈاؤن نے صورتحال مزید بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ اس ویڈیو میں دکھائی دینے والا دو یا ڈھائی سالہ بچہ ایک مزدور ماں کا ہے جو مسلسل فاقوں کے سبب انتقال کرجانے کے بعد ایک پلیٹ فارم پر مردہ حالت میں پڑی ہے اور حقیقت سے بے خبر بچہ اس کے اوپر پڑی چادر پکڑ کر اسے اپنے تئیں جگانے کی کوشش کررہا ہے، اس معصوم کو کیا خبر کہ ہر حال میں اس کی خوراک کا انتظام کرنے والی ماں خود بھوک سے دم توڑ چکی ہے.

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا میں بتایا گیا ہے کہ انتقال کرجانے والی 35 سالہ اربینا خاتون ان 9 مزدوروں میں سے ایک ہے جو لاک ڈاؤن کے باعث کام بند ہوجانے پر اپنے علاقوں میں واپسی کے موقع پر ٹرینوں میں ہی اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

جاں بحق ہونے والی خاتون کے رشتہ داروں کے مطابق وہ مسلسل بھوک کی صعوبت برداشت نہ کر سکنے کے باعث انتقال کرگئی جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بیماری اس کی موت کا سبب بنی۔

تاہم اربینا خاتون کے ساتھ سفر کرنے والوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ صوبہ گجرات سے بہار تک کے 1800 کلومیٹر طویل ریل گاڑی کے سفر کے دوران غذا اور پانی کی قلت کے باعث انتقال کرگئی۔

عالمی وباء کے دوران لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران روزگار سے محروم ہوجانے والے لاکھوں مزدور ان دنوں بھارت کے مختلف صوبوں سے اپنے گھروں کی طرف واپسی کیلئے تگ و دو کررہے ہیں اور ایسے ہی افراد میں سے کم از کم 9 راستے میں ہی دم توڑ چکے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جو خصوصی ریل گاڑیاں اس مقصد کیلئے چلائی گئی ہیں وہ اپنے شیڈول سے بہت زیادہ لیٹ ہیں، جس کے باعث شدید گرمی کے دوران ٹرینوں میں یا ریلوے اسٹیشن پر کئی کئی دن انتظار کرتے وہ غریب مزدور خوراک حتیٰ کہ پانی تک کی قلت کا شکار ہوچکے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق درجنوں ریل گاڑیاں ایسی ہیں جو اب تک پہنچ ہی نہیں پائی ہیں جبکہ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک بحال رکھنے کی غرض سے ان کے روٹس میں رد و بدل کیا گیا ہے

گزشتہ دنوں مظفر پور کے ہی اسٹیشن پہنچنے سے قبل ایک 4 سالہ بچے کے مرنے کی خبر بھی رپورٹ ہوئی تھی جس کے باپ کا کہنا تھا کہ اس کے بیٹے کی موت کا سبب مسافر مزدروں کیلئے چلائی گئی خصوصی ٹرینوں میں سہولیات کی عدم دستیابی ہے۔ دوسری جانب پولیس کا اس معاملے میں بھی یہی کہنا ہے کہ بچے کی موت بیماری کے باعث ہوئی۔

علاوہ ازیں 2 دیگر مزدور جو ممبئی سے ورناسی جار رہے تھے، 1480 کلومیٹر طویل مسافت کے دوران ٹرین میں ہلاک ہوگئے جبکہ یہاں بھی پولیس کا یہ کہنا تھا کہ 30 سالہ اور 63 سالہ دونوں مزدوروں کی موت بیماری کے باعث ہوئی۔

ان کیسز کے علاوہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے 5 دیگر مزدوروں کی اموات رپورٹ کی ہیں جو ٹرین کے سفر کے دوران ہی لقمۂ اجل بنے۔ تاہم بھارتی ریلوے کی ایک ٹوئٹ کے مطابق اب تک کوئی بھی ایسی موت بھوک کے باعث نہیں ہوئی۔

بھارت میں 10 کروڑ سے زائد افراد 25 مارچ سے لاگو ہونے والے سخت لاک ڈاؤن کے بعد سے بیروزگار ہوچکے ہیں اور حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بناء کسی مناسب منصوبہ بندی کے لگائے جانے والے اس لاک ڈاؤن نے ملک کی معیشت تباہ کر کے رکھ دی ہے اور یہ سن 1947ء کے بعد سے اب تک کا بدترین بحران ہے۔

ریل گاڑیوں میں مبینہ طور پر بھوک کا شکار ہوکر موت کی آغوش میں چلے جانے کے علاوہ درجنوں مزدور ایسے بھی تھے جو سخت گرمی میں پیدل یا سائیکلوں پر ہی سینکڑوں کلومیٹر دور واقع اپنے شہروں کو پہنچنے کی کوشش میں راستے میں ہی جان کی بازی ہار گئے۔

علاوہ ازیں 16 مزدور ایسے تھے جو رواں ماہ کے دوران ریلوے ٹریک پر سوئے ہوئے تھے کہ ٹرین سے کچل کر مارے گئے. بھارتی وزیر خزانہ نے ماہ رواں کے آغاز میں کہا تھا کہ حکومت 80 لاکھ مزدوروں کو کھانا فراہم کرنے کیلئے آئندہ 2 ماہ کے دوران 35 ارب روپے خرچ کرے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں