سعودی عرب میں کورونا کا شکار ڈاکٹر ملازمت سے برطرف

ڈاکٹر پر الزام ہے کہ اس نے کورونا کا شکار ہونے کے بعد لوگوں سے میل جول بند نہیں کیا، قید کی سزا کا بھی امکان ہے

ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22مئی 2020ء) دُنیا بھر میں کورونا کی وبا نے 50 لاکھ سے زائد لوگوں کو نشانہ بنا لیا ہے،جبکہ تین لاکھ سے زائد افراد اس موذی مرض کے ہاتھوں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جن میں کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ہزاروں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب میں بھی کئی ڈاکٹرز کورونا میں مبتلا ہوئے ہیں، تاہم طائف کے ایک سرکاری ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر کو کورونا کا شکار ہونے کے بعد نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

المرصد کے مطابق ایک عرب ملک سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر طائف کے ایک ہسپتال میں ذمہ داریاں نبھا رہا تھا، جس میں کچھ روز قبل کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ تاہم اس ڈاکٹر نے خود کو لوگوں سے الگ رکھنے کی بجائے میل جول جاری رکھا اور لوگوں سے اپنے مرض کے بارے میں بھی چُھپایا۔ اس کا یہ طرز عمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا، جس کے باعث دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرات میں ڈالا گیا۔

محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر عبدالہادی الرباعی نے تصدیق کی ہے کہ اس ڈاکٹر نے کورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر کی سنگین خلاف ورزی کی، ایک ڈاکٹر ہونے کے ناتے اس کا یہ طرز عمل انتہائی افسوس ناک ہے۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بھی تحقیقاتی کمیٹی کے رُوبرو اپنی غفلت کا اعتراف کر لیا ہے۔ جس کے بعد ڈاکٹر کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کی ملازمت کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

کورونا گائیڈ لائنز کو نظر انداز کرنے پر ڈاکٹر کو نوکری سے ہاتھ دھونے کے علاوہ قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا ہو گا، الزامات ثابت ہونے پر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک سعودی ڈاکٹر کا شکار ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر عمر حافظ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے تھے کہ اچانک انکشاف ہوا کہ وہ اوران کی والدہ اور بہنیں بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہیں۔

جس کے بعد وہ احساسِ جُرم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عمر نے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بارے میں بتایا کہ کس طرح وہ اور اہل خانہ اس مرض میں مبتلا ہوگئے۔ ڈاکٹر عمر کی جانب سے ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’بخدا میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میری وجہ سے والدہ اور بہنیں اس وبائی مرض کا شکار ہوں، میں خود کوانکا مجرم تصور کررہا ہوں کہ کیونکہ میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ سب میری وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونگے۔

ڈاکٹر عمر نے مزید لکھا ’ اے رب ، میں تو گھر سے لوگوں کی خدمت اور ان حالات میں انکی مدد کرنے نکلاتھا، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما اور جلد از جلد صحت عاجلہ سے نواز دے۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عمر کے ٹویٹ کے جواب میں لوگوں نے بڑی تعداد میں انکے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انکی اور اہل خانہ کی جلد مکمل صحتیابی کیلیے دعا کی۔ وزیر صحت نے کورونا سے متاثرہونے والے سعودی ڈاکٹرسے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی.

اپنا تبصرہ بھیجیں