پنجاب میں بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بعد مزارات کھولنے پر غور

لاہور: کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کھلنے کے بعد اوقاف آرگنائزیشن پنجاب نے 2 ماہ سے بند مزارات کھولنے کے لئے حکومت سے احتیاطی تدابیر مانگ لی ہیں۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پنجاب بھرمیں اوقاف آرگنائزیشن کے زیرانتظام مزارت بند ہیں جب کہ مساجد میں اجتماعات کے انعقاد پرپابندی ہے۔ مزارات کی بندش سے اوقاف کوابتک 26 کروڑ روپے سے زائد کا خسارا ہوچکا ہے۔ اب جب پنجاب حکومت نے مختلف کاروبار اور ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دی ہے تو کورونا وائرس کی وجہ سے بند مزارات اولیاء کرام کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اوقاف آرگنائزیشن نے حکومت پنجاب سے مزارات کو کھولنے کے لیے اجازت لینے کا فیصلہ کرلیا ہے،

اس سلسلےمیں محکمہ داخلہ سے اجازت لی جائے گی، پنجاب حکومت کی جانب سے ایس او پیز ملنے پر مزارات کو عمل درآمد کرانے پر کھولا جائے گا، اوقاف نے مزارات پر ڈس انفیکشن ٹنل نصب کررکھی ہیں، جب کہ نماز کی ادائیگی کے لیے آنے والوں کو احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ مزارات بند ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کو یہاں حاضری کی اجازت نہیں ہے ، جب کہ اوقاف کے زیرانتظام مساجد میں اجتماعات کے انعقاد پر پبندی عائد ہے۔

صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور پنجاب سید سعید الحسن شاہ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مزارات بند کئے گئے تھے اب جب کہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے تو مزارات کو بھی مخصوص اوقات کے لئے کھولا جاسکتا ہے اس حوالے سے حکومتی ہدایات اور ایس او پیز کا انتظار ہے۔ حکومت نے جمعۃ الوداع اورنمازعید الفطر کے اجتماعات کی اجازت بھی دے دی ہے اس حوالے سے حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں گی ،ہماری کوشش ہوگی کہ یہ اجتماعات مساجد کے اندر منعقد کرنے کی بجائے صحن اور گراؤنڈ میں منعقد ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں