امریکی کمپنی کی جانب سے کرونا ویکسین کے انسانوں پر کیے گئے تجربات کے نتائج سامنے آگئے

ابتدائی طور پر کل 45 افراد کے 3 گروپس پر ویکسین کا تجربہ کیا گیا، ماہرین کا مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جانے کا دعویٰ، ویکسین لگوانے والے انسانوں میں اینٹی باڈیز کی بڑی مقدار پیدا ہوئی

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2020ء) امریکی کمپنی کی جانب سے کرونا ویکسین کے انسانوں پر کیے گئے تجربات کے نتائج سامنے آگئے، ابتدائی طور پر کل 45 افراد کے 3 گروپس پر ویکسین کا تجربہ کیا گیا، ابتدائی طور پر کل 45 افراد کے 3 گروپس پر ویکسین کا تجربہ کیا گیا، ماہرین کا مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جانے کا دعویٰ، ویکسین لگوانے والے انسانوں میں اینٹی باڈیز کی بڑی مقدار پیدا ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق ایک امریکی کمپنی موڈرننا نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کردہ تجرباتی ویکسین کا انسانوں پر تجربہ کر لیا ہے۔ امریکی کمپنی کے ماہرین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ویکسین کا تجربہ کرنے کیلئے کل 45 افراد کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ہر گروپ میں 15 افراد شامل تھے۔

ایک گروپ کو 25 مائیکرو گرام ڈوز ، دوسرے گروپ میں شامل لوگوں کو 100 مائیکرو گرام ڈوز جبکہ تیسرے گروپ میں شامل لوگوں کو 250 مائیکرو گرام ڈوز دی گئی۔

جن افراد کو 25 مائیکروگرام ڈوز دی گئی تھی ان میں کرونا سے مقابلہ کرنے والے اتنے اینٹی باڈیز پیدا ہوئے جو ایک صحتیاب ہونے والے مریض میں ہوتے ہیں ۔ 100 مائیکرو گرام ڈوز موصول کرنے والے افراد میں اس سے کچھ زیادہ اینٹی باڈیز پیدا ہوئے۔ جبکہ تیسرے گروپ پر کیے گئے تجربات کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔ کمپنی حکام کا بتانا ہے کہ ویکسین کے کل 3 مرحلوں میں تجربات کیے جائیں گے۔

ابھی پہلا مرحلہ جاری ہے۔ تینوں مرحلوں کے نتائج کو دیکھ کر ہی ویکسین کے موثر ہونے یا نہ ہونے سے متعلق کوئی حتمی بات کی جا سکے گی۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں مہلک کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 48 لاکھ سے تجاوز کرگئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ 16 ہزار سے زائد ہوگئی۔ امریکا کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ اس وقت کئی ممالک کرونا کیخلاف ویکسین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم فی الحال کسی ملک کو زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں