فطری عادات(تحریر: محمد ندیم اختر)

فطری عادات

میں لوگوں کو سر نگوں ہوتے دیکھ رہا تھا.نظام قدرت ہے ملنا اسی کی ذاتِ باری سے ہے. جتنا مرضی زور لگا لیں ملے گا اتنا ہی جتنا تقدیر میں حق نے لکھ چھوڑا ہے.. قسمت بنانے کا اختیار رب العزت نے انسان کے ہا تھ میں دے چھوڑا ہے. دعا کا ارادہ اور ٹائم انسانی عادت کا مرہون منت کر چھوڑا. فطری سی بات ہے انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے آخری ایام تک اس کی ضروریات اس کی مجبوری ہیں.. اب وہ یہ ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کونسے راستے کا تعین کرتا ہے..

کیا وہ فطرت کا راستہ اپناتا ہے یا پھر اپنی عادات و اطوار کو اپنی بقا کے لئے استعمال کرتا ہے.. اللہ تعالٰی نے کچھ کام اس شخص میں انسانی جبلت کے مطابق. اپنی پسند کے مطابق ڈال کر اس دنیا میں بھیجا تا کہ وہ اپنے رب کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کو اسی کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر دنیاوی اور دینوی فرائض سرانجام دے ان امور کو ہم فطرت کے تابع کہہ سکتے ہیں.

جس سے کامیابی حاصل کر وہ سجدہ ریز ہوتا ہے
دوسر ی طرف انسان دنیا میں فطری عمل سے آنکھیں

کھولتا ہے اور جلد یا بدیر وہ اپنے آپ کو اپنے ماحول کے زیر اثر اس میں رہنے والے اجزاء وہ جاندار کردار ہو سکتے ہیں اور بے جان بھی. وہاں رہتے ہوئے وہ اپنے اندر تبدیلیاں لانے کی کو شش کرتا ہے جو دھیرے دھیرے اس کی عادات و اطوار بن جاتی ہیں یہ عادات فطرت کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہیں اور خلاف فطرت بھی..

اس جہاں میں اس بات پر قدرت نے انسانوں کو با اختیار بنا دیا اب لوگوں کی اپنی منشاء کہ وہ اپنی عادات و اطوار کو فطرت کے عین مطابق اپناتے ہوئے قسمت کو سنوارتا ہے یا خلاف فطرت اپنے قدموں کا پھیلاؤ وسیع تر کرتا جاتا ہے اور معاشرے میں عدم توازن کا باعث بن کر بگاڑ پیدا کرتا ہے .

اپنی کامیابیوں پر ناز کرتا ہے
ناکامیوں کی صورت میں سارا ملبہ تقدیر پر آتا ہے

تحریر: محمد ندیم اختر ، ڈھوک کاسب

اپنا تبصرہ بھیجیں