بل،بنک اور کرونا (تحریر: محمد ندیم اختر)

بل،بنک اور کرونا

یاد رکھیں کرونا جان لیوا نہیں مگر خطرناک ضرور ہے. احتیاط ضروری ہے. سماجی فاصلہ کم از کم تین فٹ سے چھ فٹ رکھیں.
یہ تحریر بنک میں سفید کاغذ پر لکھی ہوئی تھی جو سامنے دیوار پر چسپاں تھی.
رش کافی تھا بندہ سماجی فاصلہ رکھتے ہوئے بل جمع کروانے لائن میں کھڑا ہوگیا مگر یہ فاصلہ آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا بندے گھستے چلے گئے فاصلہ ادھا فٹ وی نا رہا
یہ رہی بنک کی صورت حال

موصوف مَن کو سالہا سال کا عرصہ گزر چکا موبائل کا استعمال کرتے ہوئے جس سے سماجی فاصلے باہر کے لوگوں کے ساتھ تو اتفاقیہ زیادہ ہو گئے.گھر والوں سے بھی سماجی رابطوں میں تیزی سے کمی ہوئی ہے صرف بل بجلی جمع کرانے بنک جانا پڑتا.. پھر یہ سہولت آن لائن بنک ایپ اور ایزی پیسہ نے فراہم کر دی اب گھر بیٹھے بل ادا ہو جاتے ہیں.

کرونا شروع ہوا حکومت وقت نے عوام کو تین مہینے کے لئے یوٹیلیٹی بلز میں ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کردیا. زیادہ استعمال کرنے والوں کو اقساط کی صورت میں ادا کرنا تھا ..لیکن بل پر یہ الفاظ درج تھے اگر کسٹمر چاہے تو پورا بل ادا کر سکتا ہے.. بعض بلز پر مقررہ تاریخ تک واجب الادا رقم صفر درج تھی.. جبکہ واجب الادا رقم بھی موجود تھی..

معاملہ یہ بنا کہ ایسے بل ایزی پیسہ یا آن لائن جمع نہیں ہو رہے تھے یعنی جو کسٹمر بل جمع کروانا چاہتا اسے بنک یا ڈاک خانے جانا پڑتا جو کہ ایک پبلک جگہ ہے جہاں پر ہر وقت رش لگا رہتا جہاں ہر دم کرونا کا خطرہ منڈلاتا ہے.
وزیراعظم کا یہ اقدام درست ضرور ہے مگر آن لائن جمع کرانےکی سہولت کےساتھ تا کہ جن کی مرضی ہے وہ بل جمع کروا سکیں

ادھر سے ایزی پیسہ یا آن لائن سہولت چھین لی گئی جس کا دوہرا نقصان متوقع ہے اگر یہ بحال نا ہوا یا اپ گریڈ نا کیا گیا تو، بنک جانا پڑےگا اور پھر کرونا ہی کرونا

تحریر: محمد ندیم اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں