مودے کا امرود (تحریر: محمد ندیم اختر)

مودے کا امرود
مودا اپنے بیڈ پر بیٹھا امرود سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک ذائقے میں تبدیلی سے چونک اٹھا.. سخت امرود کھاتے نرم گوشہ آیا اور زبان دانتوں کے تھلے آ گئی ساتھ ہی چل میرے پت والا بوٹا کی زبان چل پڑی. مودے کو حیرانی ہو رہی تھی کہ سخت امرود اتنا نرم گوشہ کیسے آیا.. کیا دیکھتا ہے کہ ایک چٹّا سفید لہراتا کیڑا سر نکالے باہر جھانک رہا تھا.. اس نے امرود کھاتے ہوئے کیڑا نکال دیا… من چاہا دوست کی شادی میں جلدی جایا جائے امرود ہاتھ میں لئے گھر سے نکلا تو پڑوسیوں کا گھر دیکھتے ہی ایک کیڑا نکال کر امرود کو چکی لگائی..شامیانے کے داخلی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر دوست کے بھائی کے کپڑے دیکھتے ہی امرود کھانا شروع کر دیا اور ساتھ کیڑا باہر…

کافی لوگ آ چکے تھے کھانے کا انتظار کرتے کرتے بھوک نے ستایا ..امرود نکال ہاتھ میں پکڑے کیڑا نکال باہر کیا. ساتھ بیٹھے آدمی کو بتایا یار آج کل امرود سے کیڑے بہت نکلتے ہیں. کھانا کھاتے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کے کھانے پینے میں نمک کی کمی تھی تو امرود کا کیڑا سر نکالنے لگا. وہاں سے میٹھے چاول شوگر کی وجہ سے نا کھا سکا تو کیڑا نکل آیا… گھر آیا تو ٹی وی پر کرونا بارے وزیراعظم کا خطاب چل رہا تھا. ہوں ناک چڑھاتے اندر چلا گیا اور اپنے سسرال گئی بیگم کو فون کیا اور سارے دن کے امرود سے نکلے کیڑوں کا شاپر اس کے حوالے کیا… بڑا ہی ڈھیٹ بندہ تھا امرود کھاتا بھی گیا اور کیڑے بھی نکالتا گیا.امرود بھی کمال تھا ختم ہونے کا نام نا لے رہا تھا اور کیڑے تھے کہ ختم نا ہو رہے…

نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے ہم تو کسی کی برائیاں نہیں کرتے.. کسی کے کام میں ٹانگ نہیں اڑاتے
مجھے کیا پڑی کھانا جیسا مرضی
ہو.بہو جیسے مرضی ہو
اس کا کاروبار جیسے مرضی ہو
..
سوچوں میں گم دور چلا گیا. رات کافی گزر چکی تھی صج کونسا جلدی جانا تھا ٹائم کی پابندی تو کیا ہوتی ہے اسے پتا نہیں تھا.. جب چاہا گیا جب چاہا آیا یہی سوچتے سوچتے امرود کو آخری چک لگایا اور آخری کیڑا اسکے اپنے پیٹ میں بل کھاتے جھومتے ہوئے اندر جو لمبی تان کر سلا دے گا.
اور پھر یہ کیڑا اس کے اندر سےنا نکل سکے گا مگر اس کو ہر ایک میں نظر آئے گا..
محمد ندیم اختر

اپنا تبصرہ بھیجیں