نیشنل کھیت (تحریر: محمد ندیم اختر)

نیشنل کھیت

شفتل اور کاسنی کی کٹائی کا آخری مرحلہ اختتام پذیرہونے پر ٹریکٹر کو کھیت میں ہل چلانے کے لیے لایا گیا. کسان اپنے جانوروں کےلیے خریف سیزن کا چارہ بیجنے کے لئے تیاریوں میں مصروف تھا.

ٹریکٹر کے کھیت میں داخل ہوتے ہی پنچھیوں کی ٹولیاں ہل لگنے کے انتظار میں اوپر اڑان بھر رہے تھے. ان اڑتے پھرتے پنچھیوں کے پروں کی آوازوں سے ان کی بے چینی نمایاں تھی. ان کی نظریں زمین کی جانب مرکوز تھی.

کب ٹریکٹر کی ہل لگے کب وہ نیچے اترے. ان پنچھیوں کی ٹولی میں چھوٹے بڑے پرندے شامل تھے. قارئین کرام کو اندازہ ہو گا آج کل زمین میں کیڑے مکوڑے عام ہوتے ہیں جو زمین میں ہل چلائی کے دوران باہر نکل آتے ہیں… مختلف قسم أڑتے کیڑے ،ریینگتے مکوڑے اور مختلف جسامت کے کیڑے وافر مقدار میں برآمد ہوتے ہیں.

بات ہو رہی تھی اڑتے پرندے کھیت میں اترتے ہی اپنی اپنی چونچ کی بناوٹ کے حساب سے ہل سے الٹ پلٹ ہوتی زمین سے کیڑوں سے پیٹ بھرنا شروع کر دیتے ہیں. بڑے پرندے مینڈک اور بڑے مکوڑوں پر حق جتاتے ہیں جبکہ چھوٹی چھوٹی چڑیاں بچی کچھی سنڈیاں تلاش کر کے اپنا پیٹ پرستی کرتی ہیں. ہر کوئی چھینا جھپٹی میں اُڈاریاں لگا رہا ہوتا ہے. یہ پرندے اس وقت تک کھیت میں رہتے ہیں جب تک ٹریکٹر ہل چلا کر نکل نا جائے بعد میں آنے والوں مٹی ہی حصے میں آتی ہے. قدرت کا نظام ہے اس قسم کی مشابہت ملکی سطح پر بھی صادق آتی ہے.. لیکن اس میں کھانے کا انداز الگ ہے.

آفات کا انتظار
زلزلہ آئے. تو امداد کے منتظر
سیلاب کا امکان آئی ایم ایف سے رجوع
کرونا آئے عالمی طاقتوں سے اپیل
اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات سے جذباتی وابستگی کا فائدہ اٹھانا.
موقع شناس، موقع پرست فصلی بٹیرے سیاسی چہرے امدادی سامان ، رقوم کو زمین اترنے کا انتظار کرتے ہیں اور وہیں سے پیٹ پوجا شروع ہوجاتی ہے بڑی چونچ اور بڑے پیٹ والے موٹا سامان لے اڑتے ہیں.
چھوٹی چھوٹی چونچوں والے منہ لگی رال سے منہ گیلا کرتے ہیں.
اور عوام کے لئے بالکل سُکم سُکی مٹی بچتی ہے. جس سے وہ جی جان سے پیار کرتے ہیں.
وطن کی مٹی کی خوشبو مشابہ عنبر
تو نا چھین سکے گا ہواؤں سے یہ مُشک
محمد ندیم اختر
nadvad@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں