احتیاطی تدابیر کے ساتھ مارکیٹیں کھول سکتے ہیں، تاجر اتحاد

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے سندھ میں نافذ لاک ڈاؤن تیسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے اور آج سندھ حکومت نے ایک اور نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے اس میں 14 اپریل تک توسیع کردی ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم لاک ڈاؤن کے معاملے پر سندھ حکومت کے ساتھ ایک پیج پر تھے کیونکہ یہ ایک عالمی وباء ہے، اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ مگر اب سب کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ تاجروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ ہم حکومت کو سماجی فاصلے پر عملدرآمد اور مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

سندھ حکومت نے برآمدی شعبہ کو کو فعال کرنے کے لئے یے اتوار کو کو اجلاس منعقد کیا کیا تاکہ ان کے لئے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وقت یہ اجلاس صنعتکاروں گھروں کی درخواست پر منعقد ہوا کیوں کہ صنعتکاروں نے روپ باہر ممالک سے سے آرڈرز وصول کر رکھے ہیں۔

اس اجلاس میں دیگر حکام کے ساتھ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب اور کمشنر کراچی  افتخار شلوانی نے بھی شرکت کی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اجلاس میں صرف برآمدی شعبے پر پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے تاجروں سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ دنیا بھر میں معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے مگر صحت سے بڑھ کر کوئی ایمرجنسی نہیں ہوتی۔

افتخار شلوانی نے کہا کہ صنعتوں کو حکومت کے وضع کردہ طریقہ کار پر پر عمل درآمد کی کی صورت میں کام شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اگر تاجر بھی حکومتی گائیڈ لائنز پر عمل کرتے ہیں تو 14 اپریل کے بعد اس بارے میں بھی سوچا جائے گا۔

اس سے قبل کل کراچی الیکٹرونکس ڈیلر ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کو دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ کیوںکہ دکاندار اب ایسوسی ایشن کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ مگر پیر کو ایک ہنگامی اجلاس کے بعد انہوں نے چودہ اپریل تک دکانیں بند رکھنے اور اس کے بعد کھولنے کا فیصلہ کیا۔

الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے یکم اپریل کو بھی بھی لاک ڈاؤن کی مخالفت کی تھی مگر پھر وزیر اعلی سندھ سے ملاقات کے بعد انہوں نے حکومتی فیصلے پر آمادگی ظاہر کی۔

کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ اگر حکومت نے دوکانیں کھولنے کی اجازت نہ دی تو معاملہ یونین کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ دکاندار پھر کسی کی بات نہیں سنیں گے۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔

اس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہر شخص اپنا آئیڈیا لے کر آرہا ہے۔ اس طرح حکومت نہیں چل سکتی۔

تاجر اتحاد کے عتیق میر کا کہنا ہے کہ یونینز اور ایسوسی ایشنز کا مزاحمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض افراد میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں