چین کے سیاحتی مقامات بھرگئے، خطرہ ٹلا نہیں، ماہرین کا انتباہ

چین میں لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے خاتمے کے بعد عوام کی کثیر تعداد سڑکوں اور تفریحی مقامات پر جمع ہونا شروع ہوگئی جس کے باعث ملک میں کرونا وائرس کی وبا دوبارہ پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

سی این این کے مطابق چین کے مختلف شہروں میں لوگ گزشتہ چند ماہ سے تقل و حرکت پر لگی پابندی سے اکتا چکے تھے جس کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی کے بعد خصوصاً ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر تفریحی مقامات پر ہزاروں کی تعداد میں شائقین امڈ آئے۔

شنگھائی میں بھی وہ ریسٹورنٹس جو کچھ ہی دن قبل مقفل تھے اب خوب کاروبار کر رہے ہیں اور بیشتر میں داخلہ بھی بغیر ریزرویشن کے ممکن نہیں جبکہ بیجنگ میں بھی ایسی ہی صورتحل دکھائی دی جیاں پارکوں، دیگر تفریحی مقامات اور کھلی جگہوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔

چین کے شہر ووہان میں 3 ماہ قبل پہلی مرتبہ کرونا کوویڈ 19 وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بعد پہلی مرتبہ گھروں سے باہر لوگوں کی اتنی بڑی  دیکھنے میں آ رہی ہے۔ چین میں کرونا کے باعث انفیکسن کی شرح اب غیر معمولی حد تک کم ہے۔ پیر کے روز کرونا کے 39 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے سوائے ایک کے بقیہ تمام بیرون ملک سے لوٹنے والوں کے ہیں۔ اب تک چین میں کرونا کے ساڑھے 82 ہزارسے زائد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تقریباً ساڑھے 3 ہزار متاثرہ افراد لقمہ اجل بنے۔

گو چینی حکومت رفتہ رفتہ پابندیاں نرم کرتی جارہی ہے لیکن ماہرین صحت اب بھی لوگوں سے احتیاط جاری رکھنے تقاضا  کر رہے ہیں۔

ماہر وبائیات ژانگ گوانگ کا کہنا ہے کہ چین میں ابھی کرونا کی وبا کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی عنقریب اس کا اختتام ہونے والا ہے بلکہ ملک محض ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔

موجودہ صورتحال میں چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی میں لوگوں کو جمع ہونے پر سختی سے منع کیا ہے۔ آخبار کی ویب سائٹ پر بھی آرٹیکل شائع ہوا ہے جس  میں کیا گیا ہے کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ لوگ قرنطینہ میں رہنے کے بعد اب باہر نکلنا چاہتے ہیں لکین ابھی وقت نہیں کہ چوکسی کا دامن ہاتھ سے چھوڑا جائے۔

ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے پابندیاں فوری ختم کیں تو اس بات کا امکان ہے کہ ملک میں ایک بار پھر کرونا وائرس کی وبا زور پکڑ لے گی۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ وبا کی نئی لہر یورپ اور امریکا کے ذریعے ملک میں آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں وبا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور یہ مسئلہ اب بھی سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ جن لوگوں میں علامات ہلکی نوعیت کی ہیں ان کے ٹیسٹ ناکافی تعداد میں ہو رہے ہیں جس کے باعث ہم انفیکشن ایک سے دوسرے کو لگنے کا ذریعہ ختم نہیں کر پا رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس وبا کے مکمل خاتمے کیلئے اقدامات جاری رکھنے چاہیں اس حوالے سے ریسٹورنٹس میں کھانے پر پابندی اور صرف پارسل کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ لاک ڈاؤن بھی لگایا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس بات سے عوام میں گھبراہٹ پھیلنے کا خدشہ ضرور ہے لیکن یہ اس لئے لازمی ہے کہ دوسری صورت میں نقصان کا اندیشہ کہیں زیادہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں