کیا ‘کلوروکوئین’ کرونا وائرس سے بچاسکتی ہے

کلوروکوئین ملیریا کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی دوا ہے اور یہ صرف مستند ڈاکٹر کی تجویز پر ہی استعمال کی جاسکتی ہے۔

جرمن سائنسدان نے کوئین کا متبادل ڈھونڈنے کیلئے کلوروکوئین دریافت کی۔ کوئین بھی ملیریا کے علاج میں استعمال ہوتی ہے جو 1934 میں تیار ہوئی۔ حالیہ دنوں میں متعدد ممالک کو کلوروکوئین کی قلت کا سامنا ہے اور اس کی وجہ وہ خبر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کا علاج بھی اسی سے ممکن ہے۔ اس کے بعد لوگوں نے خود سے کلوروکوئین استعمال اور ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔

امریکی ریاست ایریزونا میں منگل کو کلوروکوئین فاسفیٹ استعمال کرنے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور اس کی بیوی اسپتال میں داخل ہے۔ سی این این کے مطابق جس اسپتال میں وہ جوڑا داخل ہوا، اس اسپتال نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ یا علاج کیلئے اپنی طرف سے دوائی نہ کھائیں اور نہ ہی گھریلو ٹوٹکے استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کورونا وائرس کا علاج 70 سال پرانی دوا سے ممکن ہے!

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کرونا وائرس کا علاج کرنے کیلئے کلوروکوئین استعمال کرنے کی منظوری دی ہے مگر ایف ڈی اے نے اس کی تردید کردی۔

ٹرمپ کے دعویٰ کے بعد نائجیریا میں کلوروکوئین کے اوور ڈوز کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جس کے بعد نائجیریا کے محکمہ صحت نے عوام کو خبردار کیا کہ غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کوئی بھی دوا استعمال نہ کریں۔

ماضی میں بھی ماہرین ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کلوروکوئین استعمال نہ کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق کلوروکوئین کے ذریعے علاج اور زہریلے خوراک کے مابین چھوٹا سا فرق ہے۔ مطلب یہ کہ یہ علاج کے ساتھ زہریلا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ پتہ نہیں کب زہر بن جائے اور کب علاج۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق کلوروکوئین ڈوز جب زہریلا بن جائے تو دل کا دورہ پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

امراض قلب، آنکھوں بیماریوں اور ذیابیطس میں مبتلا افراد کو کلوروکوئین کا استعمال کرتے ہوئے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔

کلوروکوئین کے ذریعے علاج کی بات کہاں سے پھیلی

چین کے شہر ووہان کے سائنس دانوں نے گزشتہ ماہ سائنسی جریدہ ’نیچر‘ میں ایک مقالہ لکھا جس میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ایچ آئی وی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کرونا وائرس کے علاج میں بھی استعمال ہوسکتی ہیں۔

مقالے میں لکھا تھا کہ ’ہماری ریسرچ کے دوران انکشاف ہوا کہ انسانی جسم کے باہر لیبارٹریز میں موجود خلیات میں اگر کرونا وائرس داخل ہوجائے تو کلوروکوئین کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔ اس لیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہم یہ تجویز دیتے ہیں کہ کرونا وائرس کا شکار افراد کے علاج کیلئے کلوروکوئین استعمال کی جائے۔‘

مگر اس ریسرچ میں واضح طور پر لکھا تھا جن خلیات پر تجربہ کیا گیا وہ انسانی جسم کے اندر نہیں بلکہ باہر تھے۔

اس کے بعد فرانس کے سائنس دانوں نے بھی چینی سائنس دانوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کلیکنل ڈیٹا نے بیالوجیکل نتائج کی تصدیق کی ہے تو یہ کرونا وائرس کا سستا ترین اور سادہ ترین علاج ہوسکتا ہے۔

فرانس کے ایک سائنس دان خود بھی ہائیڈروکسی کلوروکوئین کے ذریعے کرونا وائرس کا علاج کرنے کا تجوبہ کر رہے ہیں جو تاحال جاری ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ آج تک یہ ثابت نہ ہوسکا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین اور کلوروکوئین انسانی جسم میں وائرس کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ کلوروکوئین انفلوئنزا، ڈینگی اور چکن گونیا کا علاج کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ ایچ آئی وی کے خلاف بھی اس اس کا کردار غیریقینی ہے۔

سائنسی جریدہ اینٹی وائرل ریسرچ میں رواں ماہ شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ آج تک کلوروکوئین کے ذریعے انسانی جسم میں وائرس کا علاج نہ ہوسکا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک تجربات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلوروکوئین بغیر کسی نقصان کے کرونا وائرس کا علاج کرسکتی ہے، تب تک اس کے استعمال سے پرہیز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں