ذمہ دارکون (تحریر: عدیل خان چوہدری)

عنوان/ذمہ دارکون………، 🤔

پاہڑیانوالی کےنواحی علاقہ ہیگروالہ کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک، یہ منظردیکھیں سڑکوں، گلیوں کا، ہیگروالہ سمیت مختلف دیہاتوں کوملانے والی دونوں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوکرگہرے کھڈوں میں تبدیل،ہیگروالہ گاؤں میں 2سرکاری سکول اور2پرائیویٹ سکول ہیں یہ وہ سڑک ہے جس پرروزکی بنیادپرسکول وین گزرکرجاتی ہے، وین بھی اس روڈکی وجہ سے کھٹارا ہوچکی ہے، تھوڑی سی بارش ہوتوہرطرف کیچڑ ہی کیچڑ ہوگا بچے بوڑھے اس گندمیں گزرنے پہ مجبور، نمازی حضرات بمشکل مسجد جاتےہیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ روڈ 20سال قبل بنا تھا ابھی تک مرمت نہ ہوسکا. مزید دن بدن ٹوٹ رہاہے گاؤں کی کچھ گلیاں کنکریٹ ہوگئیں باقی ویسے کی ویسے پڑی ہیں

ہیگروالہ کسی مسیحا کا منتظرحکومتیں تو بدلتی رہیں لیکن مسائل کا خاتمہ نہ ہوسکا افسوس پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی یہ سڑک نہ بن سکی تبدیلی کے نعرے دھرے دھرے رہ گئے انتظامیہ خاموش تماشائی
ہیگروالا گاؤں کی آدھی گلیاں بااثرافرادنے اپنی مرضی سے بنوائی آدھی ویسے کی ویسے ٹوٹ پھوٹ کاشتکار ہو چکی ہیں ، جب بھی بارش ہوتی ہے تو یہ گلیاں جوہڑ بن جاتی ہیں ، موجودہ ایم پی اے. ایم این اے کے باوجود ہیگروالا گاؤں لاوارث نظر آنے لگا. ن لیگ کےدورسے لیکر PTIکے ایک سال چھ ماہ گزرنے جانے کے بعد بھی کسی نے اس گاؤں کی طرف توجہ نہ دی گاؤں ہیگروالہ کی گلیاں نالیاں اورروڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کررہ گئی

واٹر سپلائی، گیس پائپ لائن بچھانے کے بعد مزید خراب ہو گئی. ٹف ٹائل، کنکریٹ کے دعوے خواب بن کر رہ گئے. اہلیان ہیگروالہ کی اعلی حکام سے پرزوراپیل ہے کہ ہمیں اس گندسے باہرنکالیں نئی سڑک تعمیر کر کے دیں

تحریر/عدیل خان چوہدری

اپنا تبصرہ بھیجیں