منڈی بہاوالدین میں ٹریفک کی نظار درہم برہم۔ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستے جام رہنے لگے. ویڈیو دیکھیں

منڈی بہاوالدین شہر کے تمام داخلی راستوں اور اندرون شہر ٹریفک کا جن بے قابو ہے. جس کی طرف کسی قسم کی توجہ نہیں دی جارہی بلکہ اس کو سیلابی ریلے کی طرح کھلی چھٹی دے رکھی ہیں ۔ سمجھ سے بالا تر ہیں کہ ضلع منڈی بہاوالدین کی ہر مشکل کنٹرول ہونے کے بجاۓ حد سے زیادہ تجاوز ہوتی جا رہی ہے. شہرکے اندر پیدل چلنا مشکل ہیں سب سے زیادہ عورتوں بچوں کا بازار میں پیدل چلنا بہت مشکل ہیں شہر کے مین بازار نجاٸز تجاوزات سےبھرمار بھرا ہیں ہردوکان کےسامنے تین چار ریڑھی والے کھڑے ہے تمام راستے بند گزرنا مشکل۔

اگر شہر کے داخلی راستوں کی طرف دیکھے تو کٸ کٸ گھنٹے لگ جاتے ہیں شہر میں داخل ہونے کیلیے ٹریفک کا نظام درھم برھم ہے اسکا کوٸ حل نہیں نکل سکا کب اس ضلع کی مشکلات حل ہونگی گندگی کے ڈھیر ہرطرف اپنی بدبو سے سلامی دیتے ہیں بیل گاۓ بکریاں بھیڑ سڑکوں پر دن رات گھومتی آوارہ ملے گی کسی چیز پر کنٹرول نہیں اگر پیٹرول پمپوں پر جاۓ تو پیمانہ پورا نہیں دوکانوں پر اپنے اپنے ریٹ ہیں ہوٹلوں پر گندگی سے بھرپور کھانےملتے ۔

اینٹوں کا ریٹ دس ہزار تک ہے ہر گلی میں سروس اسٹیشن بنے ہوۓ ہے موٹر ساٸیکل کے علاوہ اب ان پر گاڑیاں بھی دھلنے لگی ہے۔ فورڈ سٹریٹ مٹی دھول سے کھانے مزید مزے دار ملتے ہیں۔ نالیاں بند بدبو سے دماغوں ٹھنڈک دیتی ہےاور ہسپتالوں کے رخ پر مجبورکرتی ہیں اور پراٸیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹر چھرے لے کربیٹھے ہے۔

پراٸیویٹ ایمبولینس جو جان بچانے کے بجاۓ جان لیوا ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان میں کسی قسم کی کوٸ سہولت موجود نہیں پراٸیویٹ سکولوں کی طرف دیکھے تو انھوں نے اپنی اپنی دوکانیں چمکا رکھی ہیں کوٸ پوچھنے والا نہیں جاۓ تو جاۓ کہاں

یااللہ ہم پر رحم کر اس ضلع کو کوٸ ایماندار مالک دے جو اس ضلع کی مشکلات کو کم کرے اور ضلع کو خوبصورت بناۓ لیکن شاہد اس صدی میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہم پر اور اس ضلع اور اس کی اعوام پر رحم کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں