پلاسٹک کی خالی بوتلوں سے رکھئے اپنے گھر کوٹھنڈا

plastic bottleڈھاکا: بنگلا دیش میں ایک سوشل تنظیم نے پلاسٹک کی خالی بوتلوں  سے ایسا سسٹم بنایا ہے جو گھر کے درجہ حرارت کو کم کردیتا ہے۔ 

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد بجلی کی سہولت کے بغیر زندگی گزارنے اورگرمی کی سختی برداشت کرنے پرمجبورہے لیکن بنگلا دیش کی ایک تنظیم نے اس کا سادہ اورآسان حل تلاش کیا ہے جسے’’ایکو کولر‘‘ کا نام دیا گیا ہے اوراسے کارڈ بورڈ اے سی بھی کہا جاسکتا ہے جس میں پانی کی لیٹربوتلوں کو ان کے منہ سے نصف تک کاٹ کر ایک مضبوط کارڈ بورڈ پر سوراخ کرکے پھنسایا جاتا ہے۔

بنگلا دیش کی 70 فیصد آبادی ٹین کی جھگیوں اور چھونپڑیوں میں رہتی ہے۔ اکثر علاقوں میں گرمیوں کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے اسی لیے بنگلا دیش میں گرامین انٹیل نامی سوشل بزنس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تنظیم نے چند اداروں کے ساتھ مل کر 25 ہزار گھروں میں یہ کم خرچ اور آسان سیٹ اپ لگایا جس میں پانی کی بہت ساری بوتلوں کو ایک کارڈ بورڈ پر لگا کر اسے کھڑکی کی جگہ لگایا جاتا ہے جس سے باہر کی گرم ہوا دوسرے سرے سے گھر کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ قدرے ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔

سوشل تنظیم نے تجرباتی طور پر اسے جھونپڑیوں اور جھگیوں میں آزمایا  تو گھر کا درجہ حرارت تھوڑی دیر میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہوگیا جب کہ صرف بنگلا دیش میں گرامین این جی او کے تعاون سے  ایسے 25000 ایئرکنڈیشن کام کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں