مین سڑک پر غیر قانونی پٹرول پمپ کو سیل کرنے کے ساتھ ہی کھول دینا افسران کی بد نیتی اور کرپشن کی عکاسی ہے

petrol desielملک وال(تحصیل رپورٹر) غریب دکاندار کو زرا سی غلطی پر ہزاروں روپے جرمانہ اور جیل میں ڈال دیا جاتا ہے،مین سڑک پر سر عام غیر قانونی پٹرول پمپ کو سیل کردیے جانے کے ساتھ ہی کھول دینا افسران کی بد نیتی اور کرپشن کی عکاسی کرتا ہے ملک اعجاز الحق مدنی صدر انجمن تحفظ حقوق شہریاں تفصیلات کے مطابق چک رائب چاندنی چوک پر 4ماہ سے غیرقانونی طور پر چلنے والے اﷲ توکل پٹرول پمپ جس کے مالک کے پاس ڈی پی او، ڈی سی او، ہائی وے، محکمہ جنگلات، واپڈا، ٹی ایم او، اے سی ، سیکرٹری آر ٹی اے سمیت کسی بھی مجاز اتھارٹی کا کوئی این او سی موجو د نہ ہے انجمن تحفظ حقوق شہریاں کے صدر ملک اعجاز الحق مدنی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انتظامیہ کی غفلت کی انتہا ہے کہ جو غریب ریڑھی بانوں اور دکانداروں کو معمولی بات پر آئے روز بھاری جرمانے اور جیل بھجوانے کے لیے تصاویر بنواتے نظر آتے ہیں مگر مین سڑک پر غیر قانونی پٹرول پمپ کا دھندا اپنی آشیر باد سے چلوانے میں مصروف ہیں ایک دن قبل انتظامیہ نے پٹرول پمپ کو سیل کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پٹرول پمپ مالک کے پاس منظور شدہ ڈسٹری بیوٹر سمیت درکار13محکمہ جات میں سے کسی ایک محکمہ کا بھی این او سی موجود نہ ہے جس وجہ سے پٹرول پمپ سیل کر دیا گیا اور مالک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی مگر دوسرے ہی روز سیاسی بادشاہوں کو راضی کرنے کے لیے اسی غیر قانونی پٹرول پمپ کے مالک کیخلاف کوئی کاروائی کرنے کی بجائے اسے دوبارہ کھول کر دھڑلے سے قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت دے دی گئی اعجاز الحق مدنی نے کہا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون صرف عام عوام کیلئے ہے جبکہ بااثر افراد کے سامنے قانون بے بس ہے اور انتظامیہ محض غریب افراد کے لیے جب کہ بااثر شخصیات کے لیے قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اعجاز الحق مدنی نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر گوجرانوالا اور ڈی سی او منڈی بہاوالدین مظفر خان سیال سے اﷲ توکل پٹرول پمپ کو فوری طور پر سیل کرنے اور مالک سمیت دیگر تمام ذمہ داران جو اتنے عرصہ سے غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ چلوا کر اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں