ملک وال:غیر قانونی طور پر چلنے والا پٹرول پمپ سیل کئے جانے پر سیاسی دباؤ پر پھر کھول دیا گیا

Illegal petrol pumps malakwalملک وال(نامہ نگار) ملک وال میں غیر قانونی طور پر چلنے والا پٹرول پمپ سیل کئے جانے پر سیاسی دباؤ پر پھر کھول دیا گیا ، تیل کی فروخت شروع کر دی گئی۔ پٹرول پمپ کیلئے کسی بھی محکمہ سے این او سی حاصل نہیں کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر ملک وال آصف رضا نے عوامی شکایات پر چک رائب کے قریب غیر قانونی طور پر چلنے والا اﷲ توکل پٹرول پمپ عوامی شکایت پر سیل کر دیا تھا ۔ اسسٹنٹ کمشنر آصف رضا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول پمپ لگانے کیلئے ٹی ایم اے سمیت 13سرکاری محکموں سے این او سی حاصل کرنا ہوتا ہے جس کے بعد پٹرول فروخت کیا جا سکتا ہے لیکن اﷲ توکل پمپ کے مالک کے پاس کسی کسی بھی متعلقہ سرکاری محکمہ کا این او سی نہیں ہے اور بغیر کسی بھی منظور شدہ کمپنی کی منظوری کے بغیر پٹرول اور ڈیزل سٹور اور فروخت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے آتشزدگی کا خطرہ ہوتا پٹرول پمپ مالک کے پاس ٹی ایم اے ، واپڈا، انوائرمنٹ، جنگلات ، ڈی سی او، ڈی پی او سمیت دیگر سرکاری محکمہ جات سے میں سے کسی بھی محکمہ کا این او سی نہیں ہے جس وجہ سے پٹرول پمپ کو سیل کر دیا ہے اور مزید قانونی کاروائی کی جائے گی ۔ تاہم دوسرے ہی روز صورتحال اس کے برعکس دکھائی دی جس پٹرول پمپ کو این او سی نہ ہونے کی وجہ سے سیل کیا گیا اسی پٹرول پمپ کو دوسرے ہی روز بغیر کسی این او سی کے محض سیاسی دباؤ کی بناء پر کھول دیا گیا اور پٹرول پمپ مالک سیاسی اثرورسوخ کی ایماء پر انتظامیہ کی ناک نیچے غیر قانونی پٹرول پمپ پر ڈیزل پٹرول کی فروخت شروع کر دی گئی سیاسی دباؤ آنے کے بعد حکومت پنجاب سمیت تمام وفاقی محکمہ جات نے بھی آنکھیں موند لیں اورمین سڑک پر غیر قانونی تیل کی سٹوریج اور فروخت کا سلسلہ سر عام جاری ذرائع کے مطابق پٹرول پمپ میں ن لیگ کے ایک چئیرمین حصہ دار ہیں جس کے دباؤ پر غیر قانونی پٹرول پمپ کو سیل کیے جانے کے بعد دوسرے ہی روز کھول دیا گیا عوامی حلقوں نے ڈی سی او منڈی بہاوالدین سے غیر قانونی پٹرول پمپ کو بند کرنے اور 4ماہ سے زائد غیز قانونی تیل کی خرید و فروخت کرنے پر پمپ مالک کے خلاف اندراج مقدمہ کا مطالبہ کیا ہے ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں