گزشتہ 8 سالوں سے شعبہ زراعت کی تباہی کی ذمہ دار زرداری اور نواز حکومتیں ہیں

kisan
ملک وال ( نامہ نگار ) حکمران طبقہ نے شعبہ زراعت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ گزشتہ 8 سالوں سے شعبہ زراعت کی تباہی کی ذمہ دار زرداری اور نواز حکومتیں ہیں ۔ ملک کی 70 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ زمیندار طبقہ گزشتہ 8 سالوں سے شعبہ زراعت سے فائدے کی بجائے نقصان اٹھا کر مقروض در مقروض ہورہا ہے ۔ قومی اسمبلی کے سامنے کاشتکاروں کی طرف سے دودھ بہانا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے اجناس کو آگ لگانا ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے جس میں کاشتکاروں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ ان کی حق تلفی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ، ان خیالات کا اظہار کسان بورڈ منڈی بہاؤالدین کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات نصر گوندل نے گزشتہ روز پارٹی کے خصوصی اجلاس میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سالوں سے زراعت سے منسلک افراد خسارے کا شکار ہوکر فاقہ کشی کی طرف جارہے ہیں ۔ اگر ہمارے ملک کا شعبہ زراعت خوشحال نہیں ہوگا تو ملک کا کوئی بھی شعبہ خوشحال نہیں سمجھا جائے گا ۔ حکمرانوں نے بیج ‘ ادویات اور دیگر ضروریات کی چیزوں پر 341ارب روپے کی سب سڈی دے کر اب تک کا سب سے بڑا مذاق کیا ۔ اسی طرح موجودہ باردانہ کی تقسیم میں بھی پورے پنجاب میں میرٹ اور قوانین کی دھجیاں اُڑائی گئیں ۔ محکمہ انہار اور محکمہ سیم ہر سال بھل صفائی کے نام پر کروڑوں روپے کے بل وصول کرتا ہے مگر افسوس کہ آج تک ان کی طرف سے بھل صفائی کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں دوسری طرف محکمہ ریونیو کے اہلکاران اے سی سے لے کر عام پٹواری تک ہر شخص شعبہ زراعت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ نصر گوندل نے کہا کہ کسان بورڈ کی ٹیم پہلے کی طرح زمیندارا ور مزدور طبقہ کے حقوق کی خاطر بے لوث خدمات جاری رکھے گی۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں