منڈی بہائوالدین کا زیر زمین پانی نا قابل، فلٹریشن پلانٹس خستہ حالی کا شکار

Water filteration plant malakwal
زیر زمین پانی پینے کے قابل نہ ہونے اور فلٹریشن پلانٹس کی خستہ حالی سے شہری پریشان، دور دراز سے پانی بھر کر لانے اور مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور۔
ملک وال (نامہ نگار) منڈی بہاؤالدین شہر اور گردو نواح کے اکثر و بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی گندہ ہو چکا ہے، جسے پینے سے شہری موذی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ زیر زمین پانی پینے کے قابل نہ ہونے سے اور بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹس کی خستہ حالی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناہے۔ میڈیا سروے کے دوران سوہاوہ، مانگٹ، جھولانہ، شفقت آباد سمیت دیگر نواحی علاقہ جات سے آئے شہریوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے نلوں میں آنے والاپانی پینے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں روضہ والی پلی، ڈسٹرکٹ کمپلیکس اور 8 آر ڈی وغیرہ سے نہر پر لگے نلکوں سے پانی بھرر کر لانا پڑتا ہے جس سے انہیں نہ صرف دفاتر اور کام کاج پر جانے کے لئے دیر ہو جاتی ہے بلکہ ان کے معصوم بچوں کو بروقت سکول پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض اوقات رش کی وجہ سے انہیں پانی لئے بغیر ہی واپس جانا پڑتا ہے اور اس صورت میں انہیں بیس روپے فی گیلن پانی قیمتاً خریدنا پڑتا ہے جو کہ مہنگائی کے اس دور میں ان پر ایک اضافی بوجھ بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے شہر میں نصب فلٹریشن پلانٹس کو فعال بنایا جائے اور ان کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے جبکہ نواحی علاقہ جات میں اگر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب فی الوقت ممکن نہیں تو کم از کم ایسے نلکے لگوا دئیے جائیں جو 300 فٹ گہرائی سے صاف پانی کی فراہمی کا ذریعہ بن سکیں تاکہ لوگ بیماریوں سے محفوظ ہوں اور انہیں دور دراز کے علاقوں سے پانی بھر کر نہ لانا پڑے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں