پانچ سو اکیس دن

پانچ سو اکیس دن

محمد نواز تارڑ کا تعلق منڈی بہاوءالدین کے نواحی علاقہ پهالیہ سے تها..وہ خاندان کے دیگر افراد کی طرح زراعت کےشعبے سے منسلک رہے. اپنی عمر کی ستر بہاریں دیکهنے والے یہ بزرگ اپنے خاندان کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہے تهے کہ ایک روز اس گهرانے پر آزمائش کا پہاڑ آ گرا… کوئ بیماری اس طرح حملہ آور ہوئی کہ آنا”فانا” جسم کے سارے پٹهے جسم کا ساتھ دینا چهوڑنے لگے،سانس میں مدد دینے والا پٹهہ “Diaphram”بهی دغا کرنے لگا،سانسیں لڑکهڑانے لگی اور زندگی موت سے لڑنے لگی…جیسے کیسے یہ پمز ہسپتال کی ایمرجنسی میں لائے گئے…

مسیحاوں نے کمر کس لی اور بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کی..ٹوٹتی ہوئی سانسوں کو وینٹی لیٹر کی مصنوعی سانسوں سے تبدیل کر دیا گیا اور یوں ان کی نئ زندگی،آئ سی یو کی زندگی کا آغاز ہوا… بعدازاں بیماری کی تشخیص ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ ناقابل علاج فالج کی بیماری جسے” موٹر نیوران ڈیزیز”یا MND کہتے ہیں،میں مبتلا ہیں اور اب وہ اپنے جسم کے کسی بهی حصے کو ہلانے سے قاصر رہیں گے حتی کہ وینٹی لیٹر کے بغیر سانس لینا بهی محال رہے گا…

Zulqernain ikram mandi bahauddin (2)

ڈاکٹرز صاحبان نے نواز صاحب کے بیٹوں کو بیماری کی نوعیت،علاج معالجہ اور ممکنہ نتائج سے آگاہ کر دیا. نواز صاحب کی حالت اپنے جسم میں محبوس قیدی کی سی تهی،وہ سب کچھ دیکهنے،سننے،سمجهنے اور محسوس کرنے کے باوجود جسم کو حرکت دینے سے قاصر تهے. ان کے بیٹے پہاڑوں جتنا حوصلہ لیے دیوانہ وار اپنے والد کی خدمت میں جتے رہے،ان کی ہمت،تربیت اور خدمت سے عشق کی جتنی داد دی جائے کم ہے…سب بیٹوں نے اپنی اپنی خدمت کا وقت بانٹ لیا اور دن رات کے ہر پہر فوج کے تازہ دم دستوں کی طرح، ایک دو دن یا چند ہفتے یا مہینے نہیں ….پورے پانچ سو اکیس (521 ) دن باپ کی ایسی خدمت کی کہ ایسی کوئ دوسری مثال نہیں ملتی. وقت پر کپڑے تبدیل کرانا،جسم کے پہلوؤں کا رخ بدلنا،سارے جسم کی ورزش کروانا،خوراک کی نالی سے بروقت خوراک دینا،لیپ ٹاپ پر پوتے پوتیوں اور گهر میں موجود دیگر افراد بلاناغہ بات سنوانا، دنیا جہاں کی خبریں سنانا،خوب دل لگی کرنا،جنبش نطق و ابرو سے والد کی بات کو سمجهنا اور ان صبر آزما مشقوں کے دوران اف تک نہ کرنا…کبهی بهی ناگواری کا احساس تک نا کرنا…یہ سب سعادت مند بیٹوں کا اوڑهنا بچهونا بن چکا تها… ہر کوئی باپ کو کهونے سے ڈرتا تها…بیمار ہیں تو کیا ہوا آنکهوں کی ٹهنڈک تو ہیں ناں… آج پانچ سو اکیس دن آئی سی یو کے بستر پر زیر علاج رہنے کے بعد نواز صاحب خالق حقیقی سے جا ملے…

بیٹوں نے خدمت کی ایسی لازوال مثال قائم کی کہ کیا مسیحا کیا نرسیں ،ہر دیکهنے والا عش عش کر اٹهتا،ہسپتال اور آئی سی یو کی عمومی میٹنگز میں ان بیٹوں کی بہترین نرسنگ کیئر کی مثالیں دی جانے لگیں…تمام چهوٹے بڑے چارہ گر اس بات پر متفق تهے کہ کبهی کسی نے ایسی خدمت گار اولاد نہیں دیکهی جنہوں نے باپ کی ایسی خدمت کی کہ پانچ سو اکیس دنوں میں ایک بهی بیڈ سور نہ بن پایا اور نہ ہی بیٹوں کی خدمت کے جذبے اور لگن میں زرہ برابر کمی آئ…ہسپتال آکر کئی چوبیس گهنٹے ہی نکال لے…پانچ سو اکیس دن….

Zulqernain ikram mandi bahauddin (1)

دوسری طرف ایسی اولاد بهی دیکهنے کو ملتی ہے جو اپنے والدین کی قدر نہیں کرتی،بعض تو بوجھ سمجهتے ہیں…والدین میں سے کئی بیمار پڑ جائے تو اول وقت پر ڈاکٹر کے پاس لے کر آتے ہی نہیں…

جب حالت بگڑ جاتی ہے تو خوب ڈرامہ کرتے ہوئے ہسپتال تشریف لاتے ہیں،علاج کی غرض سے نہیں بلکہ لاش لے جانے کے لئے اور اپنے معاشرے میں سرخرو ہونے کے لیے…کیونکہ یہ معاشرے کے با عزت فرد ہیں…ان کی بے حسی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ابهی علاج شروع نہیں ہوتا کہ یہ پوچهنے لگ جاتے ہیں …

ڈاکٹر صاب! کوئ امید ہے…کوئ چانس ہے بچنے کا…ہم ایمبولینس وغیرہ کا انتظام کر لیں…اور اگر بادل نخواستہ مریض کے بچنے کے آثار نمودار ہونے لگیں تو اول یہ ڈاکٹر سے تعاون کرنا ختم کر دیتے ہیں کہ ڈاکٹر خود ہی کہہ دے کہ علاج نہیں کروانا تو مریض کو گهر لے جاوء…دوم اگر پہلی خواہش کا حصول نہ ہو پائے تو مریض کو فورا” گهر لے جانے کی ضد کرنے لگیں گے… اور جب یہ گهر لے جاتے ہیں تو کہتے ہیں “ڈاکٹراں جواب دے دتا اے”…

بہرکیف ہمارے معاشرے میں ایک طرف ایسی بے حسی کے ناگفتہ بہ قصے ہیں تو دوسری طرف خدمت کی قابل تقلید داستانیں… اللہ رب العزت ہم سب کو نواز صاحب کے بیٹوں کی طرح والدین کا خدمت گار بنائے اور ایسی ہی نیک اور صالح اولاد عطا فرمائے…آمین.

تحریر:Zulqernain ikram

ذوالقرنین اکرم

اپنا تبصرہ بھیجیں