درندہ صفت خاوند کے تشدد کا شکار6بچوں کی ماں کلثوم انصاف کیلئے دربدر ٹھوکریں کھانے لگی

rape zina women
ملک وال(نامہ نگار)درندہ صفت خاوند کے تشدد کا شکار6بچوں کی ماں کلثوم تھانہ پہنچ گئی پولیس کا خاوند کیخلاف کاروائی کرنے سے انکار ۔ درخواست ملی ہے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں، ترجمان میانی پولیس۔ تفصیلات کیمطابق ملک وال کے محلہ چلپور کے رہائشی 4بچیوں اور2بچوں کی ماں خاوند کی درندگی سے تنگ آ کر تھانہ میانی پہنچ گئی خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 2سال ہو گئے میرا خاوند ہمیں خرچہ نہیں دیتا ہم ماں بیٹیاں ملکر لوگوں کے کپڑے سلائی کر کے بمشکل گزارہ کر رہے ہیں مہنگائی کے دور میں 6بچوں کا پیٹ پالنا محض سلائی کر کے ناممکن ہے بچوں کے لیے جب بھی اپنے خاوند(محمد اشرف) سے خرچہ مانگتی ہوں تومیرا خاوند اپنے بھائی محمد اسلم کے ہمراہ ہم پر بد ترین تشدد کرتا ہے مورخہ 19مئی کو جب میں نے اپنے خاوند سے گھر کے لیے خرچہ مانگا تو میرے خاوند محمد اشرف نے اپنے بھائی محمد اسلم کے ہمراہ میری بڑی بیٹی جس کی عمر 18سال ہے اس کو اور مجھے ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا ڈنڈوں کے وار سے میرا بازو زخمی ہو گیا اور میری بیٹی کے جسم پر بھی تشدد کے نشانات بن گئے خاوند کے مظالم سے ستائی کلثوم نے بتایا کہ تشدد اب معمول بن گیا ہے ظالم باپ کے ظلم و ستم سے تنگ 18سالہ بیٹی نے کہا کہ میری والدہ جب بھی ابو سے خرچہ مانگتی ہے تو میرے ابو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ہم پر تشدد کرتے ہیں متاثرہ خاتون نے بتایا کہ 18مئی کو خاوند کے بڑھتے مظالم سے تنگ آ کر پولیس تھانہ میانی کو درخواست دی جس پر پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی الٹا ہم سے پیسے مانگنا شروع کر دئیے تھانہ میں درخواست دینے کا میرے خاوند کو شدید رنج ہے اور وہ مجھے میرے بچوں سمیت مار دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے جس سے مجھے اور میرے بچوں کی جان کو خطرہ خاتون نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے امداد کی اپیل بھی کی۔ رابطہ کرنے پر پولیس تھانہ میانی کے ترجمان نے کہا کہ خاتون کی درخواست ملی ہے اس پر تحقیقات کر رہے ہیں ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں