ریلوے حکام کی عدم دلچسپی کے باعث 1909میں قائم کیا جانے والا ریلوے لوکو شیڈ تباہ حالی کا شکار

Malakwal railway station
ریلوے حکام کی عدم دلچسپی کے باعث 1909میں قائم کیا جانے والا ریلوے لوکو شیڈ تباہ حالی کا شکار، کروڑوں روپے کی مشینری زنگ آلود ہو چکی، افسران توجہ دیں تو لوکو شیڈ ڈیزل انجن کی مرمت کیلئے استعمال ہو سکتا ہے ذرائع۔
ملک وال(نامہ نگار) تفصیلات کے مطابق ریلوے لوکوشیڈ ملک وال جو 108سال پہلے ملک وال میں قائم کیا گیا تھا حکمرانوں اور افسران کی عدم دلچسپی کے باعث ریلوے لوکو شیڈ تباہ حالی کا شکار ہے جبکہ اس کی عمارت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے اور اس کی چھتوں میں شگاف پڑ چکے ہیں عمارت میں استعمال کیے جانے والا لوہا بھی زنگ آلود ہو کر بالکل نہ ہونے کے برابر ہو گیا تقریباٌ دو دہائی قبل اس لوکوشیڈ میں تین شفٹوں میں سینکڑوں ملازمین دن رات کام کرتے تھے جبکہ 50سے زائد سٹیم انجن ہو ا کرتے تھے اور پاکستان بھر میں ریلوے ٹرینوں کے لیے استعمال ہونیو الے ٹائر بھی ملک وال لوکوشیڈ میں تیار ہواکرتے تھے مال بردار ٹرینیں بھی اسی شیڈ کی بدولت چلا کرتی تھیں جس سے نہ صرف پاکستان ریلوے کو ماہانہ لاکھوں کی آمدن ہو کرتی تھی بلکہ اسی لوکو شیڈ کی وجہ سے پاکستان کو ریلوے ٹرینوں اور انجنوں کے لیے پرزہ جات بھی بیرون ممالک سے نہیں منگوانے پڑتے تھے تمام تر ضروریات کی اشیا ء لوکوشیڈ ملک وال پر تیار کر لی جاتی تھیں مگر بد قسمتی سے ٹائروں سمیت تمام چیزیں تیار کرنے والی کروڑوں روپے کی خراد مشینری زنگ آلود ہو کر رہ گئی ۔لوکو شیڈ پر 550سے زائد ملازمین کام کیا کرتے تھے جن کی وجہ سے ملک وال شہر کی مارکیٹوں میں بھی خوب رونق ہوتی تھی تاہم لوکو شیڈ میں ملازمین کم ہو کر صرف 48رہ گئے ہیں جس وجہ سے کروڑوں روپے مالیت سے بنائی گئی ریلوے کالونیاں بھی تباہ ہو گئیں اور انہی ملازمین کی وجہ سے ملک وال میں کاروبار کی شرح بھی کافی اچھی رہتی تھی 108سال پہلے انگریز دور میں لوکوشیڈ کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کا قیام تو کر دیا گیا مگر اس کے بعد میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں وفاقی حکومت سٹیم انجن فروخت کر دیے گئے جس کے بعد لوکو شیڈ کی اہمیت ختم ہونے سے کروڑوں روپے مالیت کا یہ شیڈ کھنڈرات کی شکل اختیار کر گیاشیڈ میں لگی ہوئی تمام ترمشینری اور عمارت خستہ حال ہو گئی اگر ریلوے حکام چاہیں تو لوکوشیڈ کو ڈیزل انجن کی مرمت کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اس وقت کوئی بھی ڈیزل انجن خراب ہونے کی صورت میں لالہ موسیٰ یا رالپنڈی بھیجا جاتا ہے جس سے ریلوے کو بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اگر اسے بحال کر دیا جائے تو موجودہ انجن یہی مرمت ہو کت ریلوے کو بھاری مالی اخراجات کے بوجھ سے بچایا جا سکتا ہے اور پاکستان کو اورنج ٹرینیں باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ پاکستان کے قابل اور ماہر انجینئر یہ تمام تر چیزیں اپنے ہی ملک میں تیار کر کے پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں