پنجاب حکومت کی ناقص پالیسی،مراکز خریدار ی گندم کے باہر ٹرکوں اور ٹرالوں کی لگی لمبی لائنیں کسان خوار ہوگئے

Wheat buyer
ملک وال (نامہ نگار) پنجاب حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے مراکز خریدار ی گندم کے باہر ٹرکوں اور ٹرالوں کی لگی لمبی لائنیں کسان خوار ہوگئے ۔حکو مت پنجاب نے کسانوں سے گندم کی خریداری کے عمل کو مشکل بنا کر مڈل مین کے لئے آسانی پیدا کردی ہے کسانوں کا احتجاج ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مختلف سنٹرز کے باہر حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کسانوں ظفر اقبال ،منیر احمد ،ساجد محمود ، اسد گوندل ،نذیر احمد ،سمیت دیگر نے کہا کہ پنجاب حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے مراکز خریدار ی گندم کے باہر ٹرکوں اور ٹرالوں کی لگی لمبی لائن کسان ذلیل و خوار ہوکر رہ گئے ہیں۔حکو مت پنجاب نے کسانوں سے گندم کی خریداری کے عمل کو مشکل بنا کر مڈل مین کے لئے آسانی پیدا کردی ہے خریداری کو اوپن کر کے کسانوں کو حقیقی فائدہ پہنچایا جاسکتا تھا تاہم کسانوں کو پٹواری گردآور اور زرعی عملہ کے پیچھے لگا کر انکی تذلیل کرائی جاتی ہے اور جب کسان گندم کو ٹرالر وغیرہ پر لوڈ کر کے خریداری سنٹر پر لے کر آتا ہے تو کئی کئی روز تک اسے انتظار کرنا پڑتا ہے اور کیرج کی مد میں اضافی رقم بھی دینی پڑتی ہے رہی سہی کسر محکمہ خوراک کے عملہ پر سیاسی پریشر کی صورت میں نکل جاتی ہے جب علاقہ کے بااثر سیاستدانوں کی مرضی کے مطابق خریداری کی جاتی ہے انہوں نے بتایا کہ سیاسی پریشر کی بناء پر چند دن قبل ڈی ایف سی منڈی بہاوالدین میاں نواز نے ایک سنٹر پر کسانوں کی طرف سے گندم کی خریداری کے لئے دی گئی درخواستیں گڑھے میں پھینک دی تھیں کسان تنظیموں کی طرف سے کسی قسم کا احتجاج نہ کرنا اور مکمل خاموشی بھی کسانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں