اصولی اوروصولی

اصولی اوروصولی

پانامہ پیپرز کیخلاف میدانوں اورمنتخب ایوانوں میں ہنگامہ دن بدن شدت اختیار کرتاجارہا ہے۔اُدھر سورج آگ برسا رہاہے اوراِدھر سیاستدان آگ اُگل رہے ہیں ۔پاناما پیپرز کے ایشوپرحکمران شکست مان رہے ہیں اورنہ اپوزیشن قیادت اپنے موقف سے دستبردارہونے کیلئے تیارہے۔وزیراعظم کاکہنا ہے انہوں نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انورظہیرجمالی کے نام مکتوب بھجواکراپناحق اداکردیا لہٰذاء اب گیندعدلیہ کے کورٹ میں ہے۔حکومت اوراپوزیشن نے اپنے اپنے ٹی اوآرز بنائے ہیں ،حکومت1947ء سے احتساب کی حامی ہے یعنی نہ نومن تیل ہوگانہ رادھاناچے گی جبکہ متحدہ اپوزیشن کی قیادت حکمران خاندان کے بعددوسروں کے احتساب کی خواہاں ہے۔واصف علی واصف ؒ نے فرمایا تھا ،بادشاہ کاجرم جرموں کابادشاہ ہوتا ہے۔بلاشبہ اقتدارمیں رہ کرجرم کرنیوالے بڑے مجرم ہیں لہٰذاء احتساب کا آغاز ان سے کیاجائے ۔افواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف فوج کے اندراحتساب کی کامیاب شروعات کرچکے ہیں اوراب اہل سیاست کی باری ہے ۔ جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم میاں نوازشریف سے حالیہ ملاقات میں پاناما پیپرز کے معاملے کو جلدمنطقی انجام تک پہنچانے پرزوردیا ہے۔فوجی قیادت کوسیاست میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں مگرسیاستدان خود انہیں مداخلت کا جوازفراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں بدترین بدعنوانی اوربدانتظامی کے باوجودپاک فوج اقتدارمیں نہیں آئے گی عوام افواہوں پرکان نہ دھریں ۔سیاستدانوں نے جوگندڈالے ہیں وہ خوداپنے ہاتھوں سے صاف کریں فوج کوہرگز نہ گھسیٹا جائے۔میں وثوق سے کہتاہوں اگر فوج کاڈر نہ ہوتوپاکستان میں کرپشن کاسیلاب آجائے،سیاستدان عدلیہ یانیب سے نہیں صرف فوج سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں عدلیہ اورنیب سے کھیلنا آگیا ہے۔پرویز مشرف کے دوراقتدارمیں ایک بہادر سیاستدان نے نیب عدالت میں اپنے خلاف سماعت کے دوران اپنے حق میں شہادت دینے کیلئے پانچ سو گواہان کی فہرست پیش کی جومنظورکرلی گئی ،اس فہرست کامقصد تھاکہ گواہان کے بیانات قلمبند اوران پربحث ہوتے ہوتے کئی برس بیت جائیں گے اوراس دوران پرویز مشرف کی آمریت کاسورج ڈوب جائے گااورپھروہی ہوا جوسوچاگیا تھا، پرویز مشرف نے وردی اتاردی اورتاریخ کاحصہ بن گئے جبکہ وہ بہادرسیاستدان بھی زندانوں سے باعزت باہرآگیااوراحتساب وہیں ایڑیاں رگڑرگڑکر دم توڑگیا ۔پاکستان میں چوروں کے پاس چورراستوں کی کوئی کمی نہیں،انہیں ہرموڑپرکوئی نہ کوئی اپناساتھی اور چورراستہ مل جاتا ہے ۔احتساب کیلئے کوئی ضابطہ اخلاق یا ایجنڈا نہیں بلکہ ڈنڈاچاہئے جواس ملک میں صرف پاک فوج کے پاس ہے ۔حکمران پاناما پیپرز کوجس قدرطول دیں گے ان کی اقتدارپرگرفت اوراخلاقی پوزیشن اُس قدر کمزورہوتی جائے گی۔میں سمجھتا ہوں مقروض پاکستان کاپیسہ بیرون ملک منتقل کرکے اس کی معیشت کومفلوج کرناملک وقوم کے ساتھ غداری ہے۔جس طرح انسان خون کی گردش رک جانے سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اس طرح معیشت کمزورپڑجانے سے ریاست کی سا لمیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ عدلیہ نے اپنے ایک فیصلے میں دوہری شہریت والے اوورسیز پاکستانیوں کواپنے ملک کی انتخابی سیاست میں شریک ہونے سے روک دیا تھامگرآئین کی روسے بری شہرت اوردوہری شخصیت والے مسنداقتدارپربراجمان ہوسکتے ہیں،کیا یہ قائداعظم ؒ اوراقبال ؒ کی ارواح کے ساتھ ایک مذاق نہیں ہے۔جوبیرون ملک اپناخون پسینہ بہاکرکمایاگیا پیسہ پاکستان بھجواتے اوراس پرٹیکس اداکرتے ہیں وہ الیکشن نہیں لڑسکتے لیکن جوپاکستان سے ہنڈی اوردوسرے ذرائع سے اپنا ناجائز پیسہ بیرون ملک آف شورکمپنیوں میں چھپا تے ہیں انہیں ملک وقوم پربار بارحکومت کرنے کاحق حاصل ہے ۔جہانگیرترین سمیت کچھ لوگ آف شورکمپنیوں کوجائز قراردے رہے ہیں مگر پاکستان کاپیسہ سمیٹ کر باہر لے جانا ہرگز جائز نہیں ۔جس جس کی آف شورکمپنیاں ہیں یاجس کسی نے کرپشن سے پیسہ بنایا ہے ان سب کااحتسا ب ہونا چاہئے مگراخلاقی طورپراس کاآغازحکمران خاندان سے کیا جائے ۔حکمران خاندان اوردوسرے کاروباری حضرات کے درمیان کوئی موازنہ نہیں بنتا ،تجارت کرناگناہ نہیں لیکن حکومت میں بیٹھ کراپنے اختیارات اوراثرورسوخ کے بل پرتجارت کرناہرگزجائز نہیں ۔
حضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ کاایک صاحبزادہ روزگار کی تلاش میں عراق گیا ،ایک سال کے بعدواپس آیاتو ان کے ساتھ کئی اونٹ مال ِ تجارت اٹھائے ہوئے تھے ۔حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے پوچھا کہ بیٹااتنامالِ تجارت کہاں سے آیا ۔بیٹے نے جواب دیا کہ میں نے تجارت سے بنایا ہے ،حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے پوچھا کہ تجارت کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا ،بیٹے نے جواب دیا کہ چچا نے قرض دیا تھا جومیں نے واپس بھی کردیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فوراً کوفہ کے گورنر کومدینہ منورہ میں طلب کیا جو سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی بھی تھے ۔اُن سے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے پوچھا کہ ”کیا کوفہ کے بیت المال میں اتناسرمایہ آگیا ہے کہ ہرشہری کوقرض حسنہ دے سکتے ہو۔”گورنر کوفہ نے جواب دیا کہ ”نہیں،ایساتونہیں”۔حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے پوچھا کہ پھرآپ نے میرے بیٹے کوقرض ِ حسنہ کیوں دیا ،محض اسلئے کہ وہ میرابیٹا ہے ۔ میں آپ کومعزول کرتا ہوں کیونکہ آپ امین اوراس منصب کے اہل نہیں ہیں ،پھر اپنے بیٹے کوحکم دیا کہ ”اپنامال ِ تجارت بیت المال میں جمع کرادو”،اس پرتمہارا کوئی حق نہیں ہے”۔کیا میاں نوازشریف نے اپنے بیٹوں اوربیٹی سے پوچھا کہ ان کے پاس آف شورکمپنیوں میں رکھنے کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا ،کیا وہ انہیں یہ پیسہ پاکستان واپس منتقل کرنے کا حکم صادرکریں گے ۔حکمران سے سوال پوچھنا عوام کاحق ہے ،اگرحضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ سے ایک مجلس میں ان کے کرتے میں استعمال ہونیوالی زائدچادر بارے سوال کیا جاسکتا ہے توحکمرانوں سے ان کے اثاثوں بارے پوچھ گچھ کیوں نہیں ہوسکتی۔میاں نوازشریف کاتاجکستان سے واپسی پربیان ”اپوزیشن مجھ سے سوال نہیں کرسکتی”جمہوری اقدار کے منافی ہے ۔پاکستان میں کوئی مقدس گائے اوراحتساب سے مستثنیٰ نہیں ،حکمران خاندان سمیت جس کسی کیخلاف پاناما پیپرز سمیت دوسرے شواہد منظرعام پرآئیں گے ان سے پوچھ گچھ ضرورہوگی۔اگرمنتخب وزیراعظم منتخب پارلیمنٹ کوجوابدہ نہیں توپھراس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔اگرمنتخب سیاستدان پاناماپیپرز کاایشودبانے کیلئے خودپارلیمنٹ اورجمہوری اقدار کامذاق اڑاتے رہے توجمہوریت کامستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔میں وثوق سے کہتاہوں پاک فوج کی پرعزم قیادت کو پاکستان کی پراگندہ سیاست میں کوئی دلچسپی ہے اورنہ افواج پاکستان کے دبنگ سربراہ جنرل راحیل شریف نااہل سیاستدانو ں کی ناکامی اوربدنامی کی ”پنڈ”اپنے کندھوں پراٹھانے کیلئے تیارہیں ۔حکمران جہاں بھی جائیں گے عوام کی سوالیہ نگاہیں ان کاتعاقب کریں گی ۔اب ان کے محلات سے ہردروازہ انصاف اوراحتساب کے کٹہرے کی طرف کھلتا ہے ۔انسان کاسایہ تواندھیرے میں اس کاساتھ چھوڑدیتا ہے مگررسوائی اوربدنامی کاسایہ قبر کے اندھیروں میں بھی انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتا ۔فرعون ،نمروز اورقارون کے پاس بھی ریاستی طاقت ،دولت اورزروجواہر کے انبار تھے مگر وہ دنیا سے خالی ہاتھ گئے بلکہ قدرت نے انہیں انسانوں کیلئے دیدہ عبرت بنادیا ۔دولت سے بڑا انسان کاکوئی دشمن نہیں۔جہاں ناجائز دولت آجائے وہاں سے بیش قیمت عزت اورراحت جیسی نایاب نعمت رخصت ہوجاتی ہے۔

Panama leaks panama papers
میاں نوازشریف اپنااوراپنے خاندان کا دیوانوں کی طرح دفاع کرنیوالے وفاقی وصوبائی وزراء اورپارلیمنٹرین سے بہت خوش ہیں جبکہ حکمران جماعت کی کچھ خاموش شخصیات پرانہیں شدیدغصہ ہے اوران کی وزارتیں اورمراعات خطرے میں ہیں۔ دانیال عزیز جومسلسل کئی برس پرویز مشرف کے معتمداور”عزیز” رہے ہیں انہیں وفاقی وزیربنانے جبکہ چندماہ پہلے ایک متنازعہ انٹرویودینے کی پاداش میں وزرات سے سبکدوش ہونیوالے مشاہداﷲ خان کووفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل جبکہ سینیٹر کامران مائیکل کوسبکدوش کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی کابینہ میں مزیدکچھ تبدیلیوں کاقوی امکان ہے ۔ دو باتوں سے انسان کی کمزوری ظاہرہوتی ہے ،جہاں بولناہووہاں خاموش رہنا اورجہاں خاموشی ناگزیر ہووہاں بولنا۔حکمران اوران کے حواری بھارتی ایجنسی” را ”کے اہم عہدیداربھوشن یادیوکی گرفتاری پرتوخاموش رہے جبکہ پاناما پیپرز پرانہوں نے آسمان سرپراٹھا لیاہے ۔کوئی وفاقی یاصوبائی وزیر پاکستان کے حق میں بولے یانہ بولے اس سے حکمرانوں کی صحت اورسیاست پرکوئی فرق نہیں پڑتالیکن اگر حکمران خاندان کی آف شورکمپنیوں کا دفاع کرنے کیلئے جووزیر بیان بازی بلکہ شعبدہ بازی نہیں کرے گااس سے وزرات چھین لی جائے گی۔کامران مائیکل کی صلاحیت اورقابلیت جبکہ اپنی وزرات کیلئے کی گئی انتھک محنت میاں نوازشریف کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔میاں نوازشریف نے ہمیشہ مشاہدحسین سیّد اورسینیٹرچودھری جعفر اقبال،شاہدخاقان عباسی سے سمجھداروں کی بجائے دانیال عزیز سے وفاداروں بلکہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کواہمیت دی ہے۔سیّدمشاہد حسین کی حکمران جماعت میں جانے کی افواہ گرم ہے ، سیّدمشاہد حسین سے کسی جذباتی فیصلے کی امید نہیں کی جاسکتی۔پاکستان میں” زراورزور”کی سیاست کادوردورہ ہے جبکہ مادروطن کو بچانے کیلئے ”ضمیر” کی سیاست کرناہوگی ۔ پاکستان میں ”وصولی ”سیاست والے آف شورکمپنیاں بناتے رہے جبکہ” اصولی” سیاست والے ناکام ہوگئے کیونکہ پاکستان میں ایوان اقتدار کاراستہ نوٹ اورووٹ سے ہوکرجاتا ہے اورجس کے پاس نوٹ نہ ہوں اسے بیوی کا ووٹ بھی نہیں ملتا۔

A member of Pakistan's civil society holds a candlelit vigil in memory of students martyred in a deadly terrorists attack on an army public school last year, Wednesday, Dec. 14, 2015. Pakistani Taliban militants attacked an army-run school in Peshawar, killing 150 people, mostly children on Dec. 16. 2014. (AP Photo/Mohammad Sajjad)
پاکستان میں بے رحم احتساب کی ضرورت اوراہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔قیام پاکستان سے اب احتساب کاشوربہت سنامگرکسی کا احتساب ہوتے دیکھا نہیں ۔ہمارے سیاستدان نظریہ ضرورت کی بنیادپریعنی چمڑی اوردمڑی بچانے کیلئے کبھی میثاق جمہوریت کے پیچھے چھپ جاتے ہیں توکبھی این آراو ان کیلئے ڈھال بن جاتاہے ۔سیاست کو عوام کی خدمت کاذریعہ بنانے کی بجائے تجارت بنانیوالے لیڈر نہیں ڈیلراور ٹریڈرہیں انہیں مستردکرناہوگا۔جوپاکستان میں نسل درنسل سیاست اورحکومت کرتے ہیں ان کابیرون ملک تجارت کرناجرم قرار جبکہ اوور سیزپاکستانیوں کودوہری شہریت کے باوجود قومی سیاست اورسینیٹ سمیت منتخب اسمبلیوں میں اپنا تعمیری کرداراداکرنے کاحق دیا جائے ۔جولوگ پاکستان سے اپناکاروباراورسرمایہ سات سمندرپار لے گئے ہیں انہیں اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کاپابندکیاجائے ۔ جوکوئی کرپشن میں ملوث ہواس سے بدعنوانی کی رقم وصول کرکے اسے آزاد کرنادرست نہیں،جس قانون کے تحت معمولی چوروں کوسزادی جاتی ہے اس کی روسے ان بڑے مگر مچھوں کوبھی زندانوں میں ڈالناہوگاکیونکہ گندی مچھلیوں کی نسبت بڑے مگرمچھ معاشرے کیلئے زیادہ خطرناک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں