چین میں بدھ مت کے پیشوا کی لاش کو سونے میں لپیٹ کر محفوظ کرلیا گیا

1919 میں پیدا ہونے والے فُو ہاؤ کو 2012 میں ممی بنادیا گیا تھا جس کے بعد اسے سونے کی پٹیوں میں لپیٹا گیا۔

بیجنگ .: جنوب مشرقی چین میں بدھ مت کے ایک پیشوا کو مرنے کے بعد ان کی خواہش کے مطابق حنوط کرکے ممی بنادیا گیا اور اس کے بعد انہیں سونے میں لپیٹ دیا گیا۔

1919 میں پیدا ہونے والے فُو ہاؤ نے 13 سال کی عمر میں بدھ مت رسومات پر عمل شروع کیا اور وہ چونگ فو مندر سے وابستہ رہے، 94 سال کی عمر تک بدھ مت تعلیمات پر عمل کرتے رہے لیکن اپنی موت سے چند روز قبل انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں دفنانے کی بجائے ان کی لاش محفوظ کرلی جائے۔

ان کے مرنے کے بعد لاش کو ممی بنانے والے دو اہم ماہرین کو بلایا گیا جس کے بعد لاش کو گوتم بدھ کے انداز میں ایک بڑے برتن میں بٹھایا گیا اور نہلایا گیا۔ اس کے بعد تارکول اور صندل کی لکڑی کا برادہ ڈال کر ان کی لاش محفوظ کرکے ایک مرتبان میں بند کردی گئی۔ اس طرح وہ تاریخ میں پہلے بدھ مت پیشوا ہیں جن کی لاش ممی بناکر اسے سونے میں لپیٹا گیا ہے۔

آخری مرحلے میں حنوط شدہ لاش کو سونے کے ورق میں لپیٹا گیا ہے ۔ اس کے بعد انہیں شیشے کے ایک چیمبر میں بند کرکے وہاں الارم سسٹم لگادیا ہے تاکہ کوئی چور سونے کے اوراق چوری نہ کرسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں