4سے زائد انسانی جانوں کو نگلنے والی واپڈا کی بے ہنگم بجلی کی تاریں9ماہ بعد بھی ہٹائی نہ جا سکیں

wapda wires
گیپکو اہلکاروں کی غفلت 4سے زائد انسانی جانوں کو نگلنے والی واپڈا کی بے ہنگم بجلی کی تاریں ڈیمانڈ نوٹس جمع ہونے کے 9ماہ بعد بھی ہٹائی نہ جا سکیں متاثرہ شخص عامر کی گیپکو اہلکاروں کے خلاف اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ ،تاروں کی جلد ہٹا دیا جائے گا لائن سپرنٹنڈنٹ ظہور کا موقف۔
ملک وال(نامہ نگار) محلہ شیرانوالہ میں 29سے زائد گھروں کی چھتوں کے انتہائی قریب گزرنے والی بجلی کی تاریں انسانی جانوں کے لیے خطرہ کا الارم بن گئیں محلہ شیرانوالہ کے مکینوں نے بتایاکہ 2009سے اب تک ان بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگنے کی وجہ سے یوسف ، ہاشم اور جاوید جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اپریل 2015میں غازی ٹاون میں انہیں تاروں کی زد میں آنے والی میٹرک کی طالبہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اور مسرت نامی خاتون مارچ2016میں چھت پر کپڑے لٹکاتے ہوئے تاروں سے کرنٹ لگنے لھنے سے زخمی ہو گئی جس کے سر کا حصہ شدید متاثر ہوا جو سی ایم ایچ کھاریاں میں زیر علاج رہنے کے بعد صحت یاب ہو گئی۔ بجلی کی ان تاروں کی وجہ سے متاثرہ مکانوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں جہاں یہ تاریں جان لیوا ہیں وہاں ہی غریب لوگوں کی پراپرٹی کا نقصان بھی لاکھوں سے زائد ہے کیونکہ ان تاروں کی وجہ زیادہ افراد پر مبنی گھرانے اپنے گزر بسر کے لیے اپنے مکانوں کو ڈبل سٹوری میں تبدیل بھی نہیں کر سکتے محمد عامر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے مقامی سیاستدانوں کے سامنے کئی بار یہ مسئلہ رکھا مگر حل نہ ہوا جس پر اہلیان محلہ نے چندہ اکھٹا کر کے 25اگست2015کو ان تاروں کے ہٹوانے کے لیے گیپکو کی جانب سے جاری کردہ 58180روپے کا ڈیمانڈ نوٹس بھی جمع کروا دیا مگر گیپکو اہلکاروں سے جب بھی رابطہ کرتے ہیں تو وہ لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے ٹال مٹول دیتے ہیں عامر نے کہا کہ بارشوں کے دنوں میں ہماری چھتوں سے پانی بھی ٹپک آتا ہے کیونکہ عرصہ دراز سے ہم اپنے مکانوں کی چھتوں پر ان بجلی کی تاروں کی وجہ سے مٹی اور لپائی وغیرہ بھی نہیں کروا سکے اور ہماری قیمتی جانیں ان تاروں کے نظر ہو چکی ہیں اہلیان محلہ شیرانوالہ نے گیپکو چیف ایگزیکٹو سے مطالبہ کیا کہ فی الفور ہمارے گھروں کے اوپر لٹکتی تاروں کو ہٹوایا جائے کیونکہ اس کی شفٹنگ کے لیے جاری کردہ ڈیماند نوٹس جمع کروا دیا ہے ۔ رابطہ کرنے پر لائن سپرنٹنڈنٹ ملک ظہور نے کہا کہ چند دن میں تاریں ہٹوا دیں گے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں